بحیرہ روم، تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 2 خواتین اور 7 بچے ہلاک
انقرہ /میڈرڈ (نیوز ڈیسک)ترک حکام کا کہنا ہے کہ بحیرہ ایجیئن میں تارکین وطن کی ایک کشتی کو حادثہ پیش آنے کے نتیجہ میں 7بچے اور2خواتین ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔ اس سمندری راستے سے تارکین وطن غیرقانونی طور پر ترکی سے یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ خبررساں ادارے نے بتایا کہ ترک ساحلی علاقے میں تارکین وطن کی ایک کشتی الٹ گئی، جس کی وجہ سے اس میں سوار9افراد ڈوب گئے۔
ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی اناطولیہ نے مقامی حکام کے حوالے سے بتایا کہ جمعرات کی صبح پیش آنے والے اس حادثے کے بعد فوری امدادی کارروائی کرکے 4افراد کو بچا لیا گیا۔ مقامی حکام کے مطابق کچھ افراد کے لاپتہ ہونے کی بھی خبر ہے اور امدادی کارکن ان کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں بتایا گیا ہے کہ ترکی کے ساحلی علاقے کوشاداسی کے پانیوں میں ایک ربر کی کشتی کے حادثے کی اطلاع ملی، جس کے بعد ترکی کی ساحلی محافظ فوری طور پر وہاں پہنچ گئے۔ اس حادثے میں ہلاک ہونے والے افرادکی میتوں کے بارے میں ابھی تک کوئی معلومات حاصل نہیں ہوسکیں۔ تاہم یہ تصدیق کردی گئی ہے کہ یہ افراد ایک غیرمحفوظ کشتی کے ذریعے ترکی سے یونان جانے کی کوشش میں تھے۔ ترکی اور یورپی یونین کے مابین تارکین وطن سے متعلق معاہدے کی وجہ سے ترکی سے یونان جانے والے تارکین وطن کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم پھر بھی کئی ایسے واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں، جن میں تارکین وطن غیرقانونی طور پر بحیرۂ ایجبیئن عبور کرکے یونان پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسری جانب اٹلی کی طرف سے انکار کے بعد مہاجرین کی ایک کشتی بالآخر اسپین کی ایک بندرگاہ پر لنگرانداز ہوگئی ہے۔ بحیرہ روم میں موجود یہ کشتی گزشتہ کئی دنوں سے کسی بندرگاہ پر لنگرانداز ہونے کی خاطر اجازت طلب تھی۔ ہسپانوی غیرسرکاری ادارے "پروایکٹیو اوپن آرمز" کی یہ کشتی خلیج جبل طارق کے قریب واقع سان روخے کی بندرگاہ پر مقامی وقت کے مطابق صبح 9بج کر20منٹ پر لنگرانداز ہوئی۔ اس کشتی میں سوار زیادہ تر تارکین وطن کا تعلق سوڈان سے تھا۔ ان مہاجرین کو2اگست کو بحیرۂ روم سے بچایا گیا تھا