تارکین وطن کے باعث ہسپانوی وزیراعظم کو سیاسی بحران کا سامنا
میڈرڈ(نیوز ڈیسک) اسپین کے نو منتخب وزیر اعظم پیڈروشائچیز عہدہ سنبھالنے کے 2ہی ماہ بعدسیاسی بحران میں گھر گئے، شانچیز کو درپیش مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ غیر قانونی تارکین وطن کی آمد ہے، ہسپانوی وزارت داخلہ کے اعداد وشمار کے مطابق رواں برس 22 ہزار مہاجرین غیر قانونی طورپر افریقہ سے اسپین پہنچے۔ گزشتہ ہفتے شمالی افریقہ میں موجود ہسپانوی علاقے سبتا کی سرحدی باڑ پھلانگنے والے سیکڑوں افریقی تارکین وطن کی تصاویر نے ہسپانوی عوام کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول کرادی۔
اسپین میں شہری حفاظی تنظیم کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی جانب سے حملے کے نتیجے میں سرحدی پولیس کے22اہل کار زخمی ہوئے، جبکہ 800 افریقی مہاجرین اسپین میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے، اس واقعے نے آبنائے جبل الطارق پارکر کے رواں برس موسم گرما میں اسپین پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ مہاجرین کی اس بڑھتی ہوئی تعداد کی ایک بڑی وجہ اٹلی اور یونان کے راستوں کی بندش اور گرم موسم ہے، رواں برس جون میں وزیراعظم پیڈرو سانچیز کے وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے کے بعد سے اسپین میں مہاجرت ایک سنگین سیاسی مسئلہ بن گیا۔ سانچیز نے وزیراعظم بننے کے فوری بعد ایک این جی او کے بحری جہاز پر موجود 600 تارکین وطن کو اس وقت اسپین میں داخلے کی اجازت دی تھی اب مالٹا اور اٹلی کی حکومتوں نے انہیں قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ہسپانوی نیشنل ریسرچ کونسل سے وابستہ ماہر سیاسیات خوزے فرنانڈس البرٹوس کا کہنا تھا کہ حکومت کی پوزیشن کمزور ہے لیکن اس کے باوجود مہاجرت کے مسئلے پر کوئی قدم اٹھانا اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اس موضوع پر مذاکرات کرنا اتنا بھی مشکل نہیں۔ فرنانڈس کے خیال میں مہاجرت طویل المدتی طورپر اسپین کے لئے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ اسپین کے نو منتخب صدر پالو کا سادو جن کا تعلق ملک میں حزب اختلاف پیپلزپارٹی سے ہے۔ لہٰذا انہوں نے مہاجرت پر مخالفت کی پالیسی اپنائی ہے کاسادو نے اپنے ایک ٹویٹ پیغام میں کہا تھا کہ لاکھوں مہاجرین یورپ آنے کے لئے سرحد عبور کرنے کے منتظر ہیں۔ ان سبھی کو تو پناہ نہیں دی جاسکتی۔ واضح رہے کہ 2015 میں یورپ نے دوسری عالمی جنگ کے بعد مہاجرین کے سب سے بڑے بحران کا سامنا کیا تھا۔ اس دوران 10 لاکھ سے زائد تارکین وطن یورپی یونین میں داخل ہوئے