تارکین وطن کی خبریں
برطانیہ نےخالصتان کی تقریب پرپابندی لگانے کی بھارتی درخواست رد کردی

لندن (مرتضیٰ علی شاہ) برطانیہ نے لندن میں خالصتان گروپ سکھ فار جسٹس کی جانب سے 12 اگست کو ٹرافلگر سکوائر پر تقریب کے انعقاد کو روکنے کی درخواست مسترد کر دی ہے، لندن میں خالصتان گروپ لندن اعلامیہ کے ذریعے اس تقریب میں بھارت سے پنجاب کی آزادی کیلئے ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کرے گا۔ توقع کی جاتی ہے کہ برطانیہ کے مختلف سکھ گروپ اس کی حمایت کریں گے، سکھ فار جسٹس نے گزشتہ روز سائوتھ ہال لندن میں پریس کانفرنس نے اعلان کیا کہ وہ سکھوں کے علیحدہ وطن کی تحریک جاری رکھیں گے۔ سنڈے ٹائمز نے اپنی خبر میں لکھاہے کہ ٹرافلگر سکوائرپر ہونے والی مجوزہ تقریب برطانیہ اور بھارتی حکومت کے درمیان اختلافات کا سبب بن گئی ہے۔ بھارت فارن اور کامن ویلتھ آفس میں اس حوالے سے احتجاج درج کرائے گا، بھارتی حکومت نے برطانوی حکومت کو لکھا ہے کہ سکھ برادری کا ایک چھوٹا سا سخت گیر گروپ خالصتان کے نام سے علیحدہ ریاست کے قیام کے مطالبے کیلئے برطانیہ میں آزادی اظہار کا غلط استعمال کر رہا ہے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ اس ریلی کیلئے فنڈ سکھ فار جسٹس فراہم کر رہا ہے اور اس میں برمنگھم میں موجود ایک سرگرم شخصیت پرم جیت سنگھ پما کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، پرم جیت سنگھ پما 2010 میں دھماکوں اور گزشتہ سال ہندو قوم پرستوں کیلئے کام کرنے والے ایک رہنما رلدا سنگھ کے قتل کے الزام میں بھارت کو مطلوب ہیں۔ پرم جیت سنگھ پما جو 2000 میں برطانیہ آئے تھے ان الزامات کو غلط قرار دیتے ہوئے اس کی تردید کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ 11-2010 میں برطانوی پولیس نے ان سے پوچھ گچھ کی تھی لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، اس کے بھارتی حکومت نے ان کو پرتگال سے جہاں انھیں 2015 میں گرفتار کیا گیا تھا ملک بدر کرانے کی کوشش کی تھی لیکن ناکام رہا تھا۔ بھارتی حکومت کی جانب سے ریلی پر پابندی لگانے کے بارے میں سوال پر فارن اور کامن ویلتھ آفس کے ایک ترجمان نے جواب دیا کہ برطانیہ میں ہر ایک کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جمع ہونے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی آزادی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ آزادی تقریر کے قانون کی خلاف ورزی یا برطانیہ میں تشدد پر اکسانے یا امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو کارروائی کی جائے گی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ بھارتی حکومت نے برطانوی حکومت سے اس تقریب کی اجازت دینے سے انکار کرنے کی درخواست دی تھی۔ سکھ فار جسٹس کو توقع ہے کہ پورے برطانیہ سے اس تقریب میں کم و بیش 10 ہزار سکھ شرکت کریں گے۔ پرم جیت پما کا کہنا ہے کہ اس ریلی کا مقصد سکھوں کی اکثریتی ریاست پنجاب کو آزادی دینے کیلئے 2020 میں ریفرنڈم کیلئے آگہی پیدا کرنا ہے۔ سنڈے ٹائمز نے لکھا ہے کہ اس ریلی کے منتظمین کا خیال ہے کہ ریلی میں بڑی تعداد میں سکھوں کی شرکت سے اقوام متحدہ پر بھارت کو سکھوں کو حق اختیاری دلانے کی ہدایت کرنے کیلئے دبائو پڑے گا۔

سکھ فار جسٹس کے قانونی مشیر اٹارنی گرپت ونت سنگھ پنوں نے کہا کہ 12 اگست کو ٹرافلگر سکوائر پر تقریب مین ہم سکھوں کے اقوام متحدہ کے منشور اور شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی اصولوں کے مطابق سکھوں کے حق خوداختیاری کا مطالبہ پیش کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ یہ حق خود اختیاری کا اصول ہے جو سکھوں اور کشمیریوں کیلئے اپنے مادر وطن کی آزادی کے جمہوری حق کیلئے مشترکہ پلیٹ فارم بن جائے گا۔ سکھ فیڈریشن نے ایک بیان میں کہا کہ خالصتان کے حوالے سے لندن کی اس تقریب کے بارے میں بھارتی حکومت کا ردعمل غیر ضروری ہے۔ اپنے معمول کے مطابق بھارتی حکومت سکھوں کے بارے میں غیر ضروری ردعمل کا اظہار کر رہی ہے اور غلط خبریں پھیلا رہی ہے۔ سکھ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ 1966 سے بھارتی حکومت اقوام متحدہ کی جانب سے نافذ کئے حق خود اختیاری کو تسلیم کر رہا ہے اور اس بارے میں ایسی کوئی شرط نہین ہے کہ اس کا اطلاق بھارت کے عوام پر نہیں ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جائز علیحدگی پسند تحریکوں کی وجہ سے ملک ٹوٹ جانے کا خطرہ ہے لیکن حق خود اختیاری اور انفرادی بنیادی حقوق کے تحفظ کا بنیادی انسانی حق ہے، برطانوی سیاستدانوں کی بڑی اکثریت بین الاقوامی قانون کے تحت اس حق کی حمایت کرتی ہے۔ ہمارے خیال میں سکھ ریاست کا قیام ناگزیر ہے سکھوں کی اولاد اس جانب گامزن ہے اور امریکہ اور چین سمیت عالمی طاقتوں کی براہ راست حمایت حاصل کر رہی ہے اور برطانیہ، جرمنی کینیڈا اور آسٹریلیا بھی مخصوص مفادات کے تحت اپنا کردار کر رہے ہیں۔ بھارت اور پاکستان دونوں جانتے ہیں کہ ایک نہ ایک دن ان کو ٹوٹنا ہے اور بھارتی قبضے سے آزاد ایک مضبوط اور باوسیلہ سکھ ریاست وجود میں آئے گی۔ میٹرو پولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ اسے لندن میں مارچ کا علم ہے اور اس حوالے سے پولیس کا مناسب انتظام کیا گیا ہے


واپس جائیں