زرعی شہر تورتوسا میں پاکستانیوں میں سب سے بڑا زمیندار محمد سلیم بھٹی ، محنت اور لگن کی ایک مثال
بارسلونا( بیوروپورٹ ( پاکستانی دنیا میں یہاں بھی گیا اپنے ساتھ پاکستان کو بھی لے گیا پاکستان چاہے ثقافت بن کر چاہے کھیل بن کر اور چاہے زراعت بن کر وہ پاکستانی کے دل سے نہیں نکلا۔ ایک ایسے ہی باہمت پاکستانی کی کہانی جو پاکستان سے اسپین پہنچا اور اپنے ساتھ پاکستان سے دھرتی کی خوشبو کو بھی ساتھ لے آیا ۔دن رات کی تگ ودو محنت اور لگن نے آج اسے پاکستانیوں میں ایک نمایاں مقام اور نام دیا ہے۔ بارسلونا سے دو گھنٹے کی مسافت پر معروف زرعی شہر تورتوسا میں پاکستانیوں میں سب سے بڑا زمیندار محمد سلیم بھٹی رہتا ہے جس نے اپنی محنت سے قابل کاشت اڑھائی مربع زمین میں پاکستان کی سبزیاں ،بھنڈی، کریلے، کدو ، بینگن ،مرچیں اور دیگر نوح اقسام کی سبزیاں اگا کر نا صرف پاکستانیوں کو بلکہ مقامی لوگوں کو بھی حیران کیا ہوا ہے۔
زمیندار کے بیٹے نے زمینداری کو عزت دی اور سات سمندر پار بھی اسی شعبے میں نام کما رہا ہے۔سبزیاں اگانے سے پیکنگ اور پھر یورپی ممالک کی مختلف منڈیوں میں پہنچانے تک کا کام نہایت تیزی سے کیا جاتا ہے ۔ سبزی کی سب سے بڑی مارکیٹ برطانیہ کے مختلف شہر ہیں یہاں روزانہ کی بنیاد پر سپلائی کی جاتی ہیں۔ محمد سلیم بھٹی کا کہنا ہے کہ عمر کا ایک حصہ اسی چھوٹے سے شہر اور اس سے ملحقہ زمین میں گزر گیا اب تو اپنائیت سی ہو گئی ہے۔ یہ سب لوگ اپنا ہی کنبہ محسوس ہوتے ہیں۔اپنے وطن سے باہر بھی اپنے وطن جیسا پیار اور محبت ملی ہے۔ مقامی حکومت بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر انسان ایمانداری ،لگن اور خلوص کے ساتھ محنت کرے تو دنیا کا کوئی بھی خطہ ہو انسان کو عزت اور باوقار روزی ضرور ملتی ہے۔ انسان کو اپنا مقصد نہیں بھولنا چاہیئے وہ بہتر زندگی کی تلاش میں ہجرت کرتا ہے لیکن اپنے وطن کی محبت کو بھی ساتھ ساتھ لئے پھرتا ہے ۔اپنے وطن کی عزت اور وقار بھی اس کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔کیونکہ اس کے مقامی معاشرے میں اعمال اس کے سفیر ہوتے ہیں۔ اچھے اعمال سے پاکستان کی عزت بڑھے گی اور برے سے عزت پر داغ لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے باہر اپنی عزت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی عزت کا ضرور خیال رکھیں اور یہاں کے معاشرہ میں ترقی کے لئے اپنے بچوں کی تعلیم کا خصوصی انتظام کریں آپ کی محنت کا صلہ آپ کے بچوں کا بہتر مستقبل سے کوئی نہیں ہے۔ محمد سلیم بھٹی نے دنیا نیوز ٹیم کو مختلف سبزیوں اور ان کی ترسیل کے حوالہ سے بھی بتایا اور کہا کہ کس طرح گذشتہ چار ماہ قبل اولے پڑنے سے تمام فصل خراب ہو گئی تھی دوبارہ محنت کرنا پڑی اور آج سبزیاں تیار ہیں اور مارکیٹ میں بھجوائی جا رہی ہیں ۔