تارکین وطن کی خبریں
جرمنی میں مہاجرین کی مخالفت، 2کروڑ افراد تارکین وطن کا پس منظر رکھتے ہیں

برلن (نیوز ڈیسک) جرمنی میں معاشرتی تنوع سے متعلق ایک سماجیاتی جائزے کے مطابق تارکین وطن کے پس منظر کے حامل 2کروڑ افراد ملک میں آباد ہیں۔ خبررساں اداروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف جرمنی میں مہاجرین کی مخالفت زور پکڑ رہی ہے، جب کہ ان کا ایک بڑا طبقہ تارکین وطن پر مشتمل ہے۔جرمنی میں محدود پیمانے پر کی جانے والی نئی مردم شماری کے نتائج کے مطابق 2017ء میں ملک میں آباد تارکین وطن کے پس منظر کے حامل افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔

سماجیاتی مطالعے کے مطابق گزشتہ برس جرمنی میں مقیم ایسے افراد کی تعداد 2 کروڑ ہو گئی، جن کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک جرمن شہری نہیں تھا۔ مردم شماری کے نتائج کے مطابق 2016ء کے مقابلے میں گزشتہ برس ایسے افراد کی تعداد میں 4.4فیصد اضافہ ہوا۔ واضح رہے کہ جرمنی میں تارک وطن سے مراد کوئی ایسا شخص ہوتا ہے، جو جرمنی میں پیدا نہ ہوا ہو یا جس کے والدین میں سے کوئی کوئی ایک جرمنی شہری نہ ہو۔ ان اعداد و شمار کے مطابق جرمنی میں مقیم ایسے افراد میں سے 51فیصد خالص جرمن شہری ہیں، جبکہ49فیصد قانوناً غیر ملکی ہی ہیں۔ ان میں سے 14فیصد ترک نژاد ہیں،جب کہ 11 فیصد پولستانی ہیں اس کے علاوہ 7فیصد روسی، 6فیصد قزاقی اور 4 فیصد رومانیہ سے تعلق رکھنے والے باشندے ہیں


واپس جائیں