جس رویے میں انسان کا احترام نہیں وہ مذہب نہیں ہو سکتا اور مذہب کبھی نفرت کو فروغ نہیں دیتا، ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا پاکستانی تنظیمات کے ساتھ عشایئے میں خطاب
ڈاکٹر محمد طاہر القادری ہمارے لیے ہی نہیں پورے سپین کیلئے اہم شخصیت ہیں ،ممبر نیشنل اسمبلی سپین محمد شعیب ڈپٹی گورنر کاتا لونیا مونسرات نے ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے نصاب کو سپانش ترجمے کے ساتھ شائع کرنے کی خواہش ظاہر کی
بارسلونا (یوسف چوہدری ) منہاج القرآن سپین کے زیر اہتمام پاکستانی کمیونٹی کی تنظیمات کے ساتھ ایک اعشائیے کا اہتمام کیا گیا جس میں سابق گورنر اور موجودہڈپٹی گورنر کاتالونیا مونسرات اور رُکن نیشنل اسمبلی محمد شعیب نے خصوصی شرکت کی جبکہ سلسلہ شاذلی سے وابستہ بائی برتھ سپانش مسلمانوں کے ایک وفد نے بھی شرکت کی، ملاقات کی اس پروقار تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک کی سعادت حافظ سعد اور نعت رسول مقبول (ص) کی سعادت قدیر احمد خان نے حاصل کی ، محمد اقبال چوہدری نے اعشایئے میں شریک مہمانوں اور تنظیمات کا تعارف کروایا ۔ عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے شیخ السلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے مہمانوں کو اعشایئے میں شرکت پر اور خصوصی طور پر ڈپٹی گورنر مونسرات اور ممبر نیشنل اسمبلی محمد شعیب کا شرکت پر شُکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امن پوری دُنیا کی ضرورت ہے اور امن کا تعلق انسانیت کیساتھ مُنسلک ہے جس کیلئے انسان کو اپنے دل اور دماغ کو دُرست رکھنا ہوتا ہے اور اگر انسان اپنے دل و دماغ پر کنٹرول نہیں کرتا تو پھر شر پسند عناصر جنم لیتے ہیں اور دہشتگردی جنم لیتی ہے انتہا پسندی سے جبکہ انتہا پسندی جنم لیتی ہے تنگ نظری سے اور تنگ نظری کسی بھی عصبیت پر قائم ہو سکتی ہے ، تنگ نظری سے نفرت پیدا ہوتی ہے جو امن کو جلا دیتی ہے ، شیخ السلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا کہ دہشتگرد اپنا نظریہ امن کو تباہ کرنے کیلئے بیجتے ہیں اور دہشتگردی دنیا کے کسے خطے یا قوم میں ہو دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں بلکہ یہ مذہب کے دشمن ہیں ، انہوں نے کہا کہ جس رویے میں انسان کا احترام نہیں وہ مذہب نہیں ہو سکتا اور مذہب کبھی نفرت کو فروغ نہیں دیتا ، شیخ السلام نے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف میری پچاس سے زائد کتابیں ہیں جبکہ میں نے ایک ہزار کتابیں لکھی ہیں جن میں سے ساڑھے پانچ سو چھپ چُکی ہیں جن میں سے پچاس سے زائد کتابیں صرف دہشتگردی کے ٹاپک پر ہیں ، شیخ السلام نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہم سب مسلمان اور ہمارا ایمان قرآن مجید ہے اور اللہ تعالی نے سب سے پہلی سورت کی تین آیات میں اپنا تعارف کروایا اور اُس تعارف جیسا تعارف کوئی انسان پیش ہی نہیں کر سکتا ، اللہ تعالی نے اپنے تعارف میں کہا کہ میں تمام جہانوں اور بنی نوح انسانوں کا رب ہوں جس میں کوئی تفریق نہیں رکھی گئی اس لیے دل و دماغ میں تنگی ہو تو بندے اور رب کا تعلق قائم نہیں ہوتا اس لیے اپنے رویے میں وسعت پیدا کرنی ہو گی ، ہر وہ چیز جو دُنیا میں موجود ہے اُس سے نفرت اور بیزاری کے اظہار کو ختم کرنا ہو گا ، ہر وہ چیز جس میں کائنات کیلئے بہتری ہو اللہ تعالی کے حضور وہ عمل عبادت سمجھا جا تا ہے بلکہ اسلام نے صرف مذہب کے اختلاف پر ہی ہتھیار اُٹھانے کو رد کر دیا ہے ، دوسرا تعارف رحیم اور رحمان کا ہے جو ہر مخلوق کیلئے ہے اور اس میں بندوں کیلئے سبق یہ دیا کہ بندے کی طبعیت میں رحمت ہونا بھی اللہ سے تعلق کا دوسرا جُز ہے یعنی اللہ کے ساتھ تعلق دل اور دماغ کے ساتھ اُسکی مخلوق کو فائدہ پہنچانا ہے ، تیسری آیت میں نظام عدل کا تعارف کروایا جس میں جزا اور سزا ہے جس میں آپ کا رویہ انصاف پر مبنی ہونا چاہیے اپنی زندگی میں یقین اور انصاف کو اس طرح شامل کر لیں کہ ہر حال میں آپ کیطرف سے فیصلہ انصاف پر مبنی ہو ، شیخ السلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے مدینہ سٹیٹ کیلئے پہلا لکھا ہوا اسلامی قانون (میثاق مدینہ ) کے کچھ آرٹیکلز پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل ون اور 20 میں تمام مسلمان اور تمام یثرب کے لوگ (خواہ غیر مسلم ) جو اس قانون کو مانے گا اور جو اس کے عمل کیلئے کام کرئے گا وہ سب ملکر ایک قوم ہیں جس میں تمام معاشرے کے کلچر بھی شامل تھے اور آرٹیکل 29 میں مسلم اور غیر مسلم کو ایک ہی قوم قرار دیا اور یہ پہلی اسلامی ریاست تھی جس کا یہ قانون وضع کیا گیا تھا، انہوں نے کہا کہ سپین میں مقیم پاکستانی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں ایک سوسائٹی بننے کیلئے کام کریں انسانیت کے حقوق کیلئے کام کریں اور سپین حکومت نے جس طرح آپ کو رہن سہن کیلئے حقوق دیئے آپ بھی ان کے قانون کی پاسداری کریں ، شیخ السلام نے نماز کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ سپین میں رہتے ہوئے نماز کو قصر نہ کرنا اللہ کی نگاہ میں یہ آپ کا وطن ہے لہذا اس مُلک کے قانون اور معاشرتی پہلوؤں کو شریعیت کے اعتبار سے برقرار رکھنا بھی آپ کا فرض ہے ، پہلے مسلمان ممبر نیشنل اسمبلی محمد شعیب نے اعشایئے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری ہمارے لیے ہی نہیں پورے سپین کیلئے اہم شخصیت ہیں ، ہم منہاج القرآن کی تقریبات میں بڑے عرصے سے شامل ہو رہے ہیں ان کی خدمات قابل تحسین ہے ، محمد شعیب نے کہا کہ محمد اقبال چوہدری اور حافظ عبدالراق صادق کا دونوں کمیونٹیز کے درمیان تعلقات کی مضبوطی میں بڑا اہم کردار ہے جبکہ محمد شعیب نے پاکستان میں بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے مظلوم خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ سابق گورنر اور موجودہ ڈپٹی گورنر کاتالونیا مونسرات نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کئی سالوں سے پاکستانی برادری کے ساتھ منسلک ہیں پاکستانیوں کی سپین کمیونٹی کے حوالے سے کافی خدمات ہیں ، سابق گورنر مونسرات نے صدر سپین پیدرو سانچیت کا پاکستان میں دہشتگردی کے حوالے سے پیغام بھی پڑھ کر سُنایا اور ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے نصاب کو سپانش ترجمے کے ساتھ شائع کرنے کی خواہش پیش کی ۔ پروگرام کے آخر میں سلسلہ شازلیہ سے تعلق رکھنے والے وفد نے قبلہ کی موجودگی میں حلقہ درود قائم کیا اور بحضور سرور کائنات (ص) عقیدت کے گُل نچھاور کیے ۔