تارکین وطن کی خبریں
جرمنی۔ ہنرمند اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے لیے دروازے کھولنے اور رہائشی اجازت ناموں کے حصول میں آسانیاں پیدا کرنے پر اتفاق

جرمنی میں رواں برس کے اختتام سے قبل تارکین وطن سے متعلق ایک نیا قانون منظور کیا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس قانون کے بعد جرمنی میں رہنے کے خواہش مند غیرملکی شہریوں کے لیے کیا کچھ تبدیل ہو جائے گا؟

جرمنی میں وسیع تر حکومتی اتحاد کے درمیان تارکین وطن سے متعلق پالیسی پر اختلافات اس حد تک پہنچ چکے تھے کہ میرکل حکومت گر جانے کے خطرات پیدا ہو گئے تھے، تاہم میرکل کی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین، باویریا میں اس جماعت کی سسٹر پارٹی کرسچین سوشل یونین اور حکومتی اتحاد میں شامل جرمنی کی دوسری سب سے بڑی جماعت ایس پی ڈی کے درمیان ایک سمجھوتا طے پا گیا ہے، جس میں تارکین وطن سے متعلق بہتر قانون سازی پر اتفاق کیا گیا ہے۔

اس سمجھوتے کے تحت رواں سال کے آخر تک جرمنی میں تارکین وطن سے متعلق ایک قانون منظور کر لیا جائے گا۔ یعنی چانسلر انگیلا میرکل کی مہاجرین دوست پالیسی اب ماضی کی طرح جاری نہیں رہے گی۔ اس قانون میں مہاجرین کے حوالے سے پالیسیاں سخت بنانے کے برعکس ہنرمند اور اعلیٰ تعیلم یافتہ افراد کے لیے جرمنی کے دروازے کھولنے اور رہائشی اجازت ناموں کے حصول میں آسانیاں پیدا کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے اس سمجھوتے کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس وقت جرمنی میں تارکین وطن سے متعلق جس انداز کا بیوروکریٹک نظام رائج ہے، وہ نہایت نادرست ہے۔اس سمجھوتے کے تحت ہنرمند افراد کو ترک وطن کر کے جرمنی پہنچنے میں پوائنٹس کی بنیاد پر جرمن رہائشی اجازت نامے دیے جائیں گے۔اس سمجھوتے میں کہا گیا ہے کہ جرمن معیشت کی شرح نمو برقرار رکھنے کے لیے سالانہ بنیادوں پر 25 ہزار افراد کو کام کی اجازت دی جائے گی۔ اس معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ہنرمند اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے لیے جرمنی کا رہائشی اجازت نامہ حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹیں ختم کی جائیں گی۔اس معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی شخص کو جرمنی میں رہائش کی اجازت صرف اس صورت میں مل پائے گی، اگر وہ ملازمت کی مارکیٹ میں اپنی جگہ حاصل کر لے گا


واپس جائیں