تارکین وطن کی خبریں
یورپ کا تارکین وطن کو روکنے کیلئے قوت استعمال کرنے کا فیصلہ

برسلز (حافظ انیب راشد) تارکین وطن کی جانب سے یورپین یونین کی طرف ہجرت کو روکنے کیلئے یورپین لیڈرز کانفرنس گزشتہ روز برسلز میں ہوئی جس میں غیر قانونی مہاجرین کا مسئلہ اہم موضوع تھا۔ اس کانفرنس کے نکات میں سے ایک اہم ترین نکتہ یہ بھی تھا کہ سمندر میں سے یورپ کی جانب آنے والے تارکین کو ان کی بوسیدہ کشتیوں سے اتارکر انہیں یورپ لانے کی بجائے واپس ان ممالک کی بندرگاہوں پر پہنچا دیا جائے۔ اس کے لیے وہاں یعنی یورپ سے باہر ہی ایسے کیمپ بنائے جائیں گے جہاں تارکین وطن کو رکھ کر حقیقی اسائلم سیکرز اور معاشی تارکین وطن میں فرق کیا جائے گا۔ اس حوالے سے آگاہ یورپین ذرائع کے مطابق یورپ نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ یورپ میں تارکین کے سیلاب کو روکنے کے لیے بین الاقوامی قوانین کا خیال رکھتے ہوئے ہر طرح کی قوت استعمال کرے گا۔ اس کے لیے یورپ سے باہر جو کیمپ ٹائپ جگہ بنائی جائے گی اس کا نام "ڈس امبارکیشن پلیٹ فارم، آئوٹ سائیڈ یورپ" تفویض کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے انسانی سمگلرز کی جانب سے یورپ میں تارکین وطن کو بھر بھر کر بھیجنے کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ جبکہ اس طریقے سے یورپ میں2015ء کے مقابلے میں مہاجرین کی آمد میں96فیصد کمی بھی واقع ہوگی۔ ذریعے نے اس بات پر زور دیا کہ یہی وہ ایشو بھی ہے جو یورپ میں دائیں بازو کی سیاسی قوت میں اضافے اور عام آدمی کی گفتگو کا حصہ بنتا جارہا ہے


واپس جائیں