او ای سی ڈی اورپاکستان کاتعلقات کومزیدبہتر بنانے پراتفاق
پیرس(اشفاق چوہدری)پاکستان اور تنظیم برائے اقتصادی تعاون و ترقی (او ای سی ڈی) نے ٹیکس سے متعلقہ امور اور سماجی و اقتصادی شعبوں میں تجربات کے تبادلہ کے سلسلے میں تعاون کو مزید بہتر بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں او ای سی ڈی پاکستان کو ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے کیلئے تکنیکی امداد فراہم کرے گا۔
ان خیالات کا اظہار پاکستان کی وزیر خزانہ و مالی امور ڈاکٹر شمشاد اختر نے او ای سی ڈی کے جنرل سیکرٹری اینجل گورایہ کے ساتھ پیرس میں آج ہونے والی ایک ملاقات میں کیا۔ پاکستان او ای سی ڈی کے ساتھ پہلے ہی سے مختلف معائدوں پر دستخط کر چکا ہے جن میں ستمبر 2016 میں OECD کے ساتھ ٹیکس کے امور پر باہمی تعاون اور معاونت کے کنوینش پر دستخط، پاکستان کثیرالجہتی کنونش کے ٹیکس کے معائدوں پر عمل درآمد، ٹیکس کی بنیاد کو خراب ہونے سے بچانے، منافع کے اشتراک کے بین الاقوامی معائدے، کثیر الاقوامی اتھارٹی کے معائدوں اور مالی امور کے خود کار ایکسچینج MCAA پر جون 2017 میں ہونے والے معائدے بھی شامل ہیں۔ او ای سی ڈی کے سیکرٹری جنرل نے پاکستان کو او ای سی ڈی کے مختلف پروگراموں جن میں بین الاقوامی ویلیو چین، مشترکہ ترقی کے لائحہ عمل، بیرونی رشوت کی تشخیص اور مالی اعداد و شمار میں معاونت شامل ہیں کے شعبوں میں او ای سی ڈی کے تعاون کی پیشکش بھی کی۔ وزیر خزانہ و مالی امور نے او ای سی ڈی کوپاکستان میں ٹیکس کے نظام کی گہرائی سے جائزہ لینے کے بارے میں بھی درخواست کی تاکہ اس نظام میں بہتری لائی جاسکے۔ وزیر خزانہ نے OECD کے ساتھ انسپکٹر ویدآؤٹ باڈر(Inspectors Without Borders Program) کے ذریعے پاکستان کے ٹیکس کے معاملات کو بہتر کرنے کیلئے تکنیکی امداد فراہم کرنے کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔ او ای سی ڈی کے سیکرٹری جنرل نے او ای سی ڈی سے متعلقہ افراد کو پاکستان کی طر ف سے پیش کی جانے والی ان درخواستوں پر فوری طور پر عمل درآمد کرنے کے احکامات صادر کیئے۔ وزیر خزانہ نے اس ملاقات کے دوران پاکستان کی او ای سی ڈی کے ترقیاتی مرکز میں رکنیت کیلئے پہلے سے دی جانے والی درخواست کے بار میں بھی بات چیت کی۔ یہ مرکز او ای سی ڈی کے رکن ممالک، تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقیاتی پارٹنرز کو ایک مرکز پر لانے کا کام کرتا ہے تاکہ دنیا میں ترقی اور لوگوں کی بنیادی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے پالیسی حل تلاش کیئے جا سکیں۔