تارکین وطن کی خبریں
ہنگری: تارکین وطن کی ہلاکت کا الزام، 4 ملزمان کو 25 سال قید کی سزا

کیسکیمٹ: ہنگری میں ایک ٹرک میں 71 تارکین وطن کی ہلاکت کے الزام میں ملوث 4 ملزمان کو 25 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ ایک سال کے طویل عرصے تک چلنے والے ٹرائل کے بعد واقعے میں ملوث 4 اہم ملزمان کو سزا سنائی گئی۔خیال رہے کہ 2015 میں آسٹرین ہائی وے پر ایک فریزنگ ٹرک میں انسانی اسمگلنگ کے دوران 71 تارکین وطن ہلاک ہوگئے تھے جبکہ اس واقعے پر عالمی سطح پر غم کا اظہار کیا گیا تھا۔

کیسکیمٹ کی عدالت نے اس واقعے میں ملوث مزید 10 ملزمان کو 12 سال تک قید کی سزا دی گئی جبکہ عمر قید کا مطالبہ کرنے والے استغاثہ نے عدالتی حکم کے فوری بعد اپیل دائر کردی، جس میں اعتراض کیا گیا کہ یہ سزا بہت کم ہے۔یہ تمام افراد ہنگری کے دارالحکومت بداپیسٹ سے تعلق رکھنے والے انسانی اسمگلروں کے گروہ کے مبینہ طور پر رکن ہیں، جنہوں نے 2015 میں تارکین وطن کے بحران کے دوران 1200 سے زائد افراد کو مغربی یورپ اسمگل کیا تھا۔ہنگری کی عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران جج جانون جاڈی کا کہنا تھا کہ " یہ چاروں ملزمان ان کا ردعمل دینا متاثرین کے موت کا باعث بن سکتا ہے"۔انہوں نے کہا کہ " یہ واضح ہے کہ ملزمان اچھی طریقے سے واقف تھے کہ ان کی گاڑیاں انسانوں کے لیے درست نہیں ہیں اور یہ عمل قانون کے تحت تشدد ہے"۔

واضح رہے کہ ہلاک ہونے والے ان افراد کا تعلق شام، عراق اور افغانستان سے تھا جو جنگ کے باعث اپنے ملکوں سے نقل مکانی کر گئے تھے۔جج جانون جاڈی کی جانب سے چاروں ملزمان کو قتل اور انسانی اسملنگ پر سزا سناتے ہوئے کہا گیا کہ افغان لاہو سمسوریامال نے ڈرائیور کو حکم دیا تھا کہ وہ وولو فریزر ٹرک کے دروازے نہ کھولے جبکہ دیگر تین ملزمان میتوڈی جیورجو، وینسی سلیو ٹوڈورو اور اوےلو سٹویانو سفر کے دوران گاڑی میں ان کے پیچھے تھے اور رابطے میں تھے۔


واپس جائیں