آپ لوگ پاکستان کی تصویر ہیں آپ کا عمل ہی اصل سفارت کاری ہے،سفیر پاکستان جناب خیام اکبر
بارسلونا(بیورورپورٹ )سفیر پاکستان جناب خیام اکبر اور قونصل جنرل پاکستان، جناب محمد عمران علی چوہدری کی قونصلیٹ جنرل آف پاکستان بارسلونا میں کمیونٹی میٹنگ ہوئی جس کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے کیا گیا۔ اور مختصر تعارف ویلفیئر اتاشی عمر عباس میلہ نے پیش کیا اور نئے تعنیات ہونے والے قونصل جنرل علی عمران چوہدری نے مختصر بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے دروازے تمام پاکستانیو ں کے لئے کھلے ہیں ۔میں آپ لوگوں کے مسائل کے حل کے لئے آیا ہو ں میں امید کرتا ہوں کہ اگر کہیں کوئی غلطی ہو جائے تو احسن طریقہ سے اس کی نشاندہی کریںاس کا ازالہ کیا جائے گا ۔
سفیر پاکستان جناب خیام اکبرنے کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا آپ لوگ پاکستان کی تصویر ہیں آپ کا عمل ہی اصل سفارت کاری ہے،آپ سب لوگ میرے سے بہتر سفیر ہیں،کیونکہ آپ لوگوں کے مقامی لوگوں کے ساتھ بہتر تعلقات ہیں ،اگر آپ لوگوں نے اس ملک میں رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو کامیابی کا راستہ تعلیم کے ذریعے آئے گا۔آپ کے بچوں کی تعلیم ضروری ہے اس سے وہ مقامی ثقافت اور ماحول کو جان سکیں گے۔ انہو ں نے پاکستان اور اسپین کے تعلقات کے حوالہ سے کہا کہ اسپین اور پاکستان کے تعلقات بہت اچھے ہیں،عالمی سطح پراور یورپی یونین کی سطح پر ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اسپین نے جی ایس پی پلس پر ہماری مدد کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اسپین پیدرو سانچزاور ان کی حکومت پاکستان اور پاکستانیوں کے لئے مثبت ثابت ہو گی۔خوش آئند بات ہے کہ ہمیں اچھے بات چیت کرنے والے ملیں گے۔انہو ں نے کہا کہ اسپانش وزیر خارجہ پاکستان اور عالمی امور پر خاصی معلومات رکھتے ہیں میں نے ملاقات کا وقت مانگا ہے،جلد ان سے ملاقات ہو گی۔ سفیر پاکستان جناب خیام اکبرنے کہا کہ پاکستان اور اسپین کے درمیان تجارت کا حجم پہلے کی نسبت بڑھا ہے۔ پاکستان سے ٹیکسٹائل کی درآمدات بڑھی ہیں ۔اور اسپانش بزنس مین پاکستان میں اپنے کاروبار کو مزید فروغ دینے کے لئے اپنے دفاتر قائم کر رہے ہیں جو ہمارے لئے ایک اچھی بات ہے ۔جس سے ملکی درآمدات میں آضافہ ہو گا۔ انہو ں نے کہا کہ ٹیکسٹائیل کے علاوہ اور بھی بہت سے مواقع ہیں جس میں آئی ٹی، ماربل اور دیگر شعبوں میں تعلقات مزید بہتر ہو سکتے ہیں سفیر پاکستان جناب خیام اکبرنے پاکستانی کمیونٹی اسپین کے حوالہ سے کہا کہ میرے لئے بڑے سے بڑا بزنس مین اور معمولی کام کرنا والاپاکستانی برابر کی حیثیت رکھتا ہے ۔میری کوشش ہو گی کہ میری جانب سے کوئی کوتاہی نہ ہو اور آپ کے مسائل کا حل نکالوں ،انہو ں نے کہا کہ اسپین کے صوبہ پائس باسکو میں مقیم پاکستانیو ں کے مسائل پر مقامی حکومت سے بات چیت کرنے کے لئے پائس باسکو جا رہا ہوں اور ان کے مسائل کے حل کی ہر ممکن کوشش کریں گے ۔انہو ں نے کہا کہ ہمارا کام کوشش کرنا ہے ہم کوشش کریں گے اللہ تعالی راستہ نکالنے والا ہے۔ سفیر پاکستان جناب خیام اکبرنے کہا کہ میں نے جب سے چارج سنھبالا ہے کوشش کی ہے کہ یہاں کے اخبارات کے صحافیو ں سے ملاقات کروں اور اس وقت تک میں چند بڑے اخبارات کے صحافیو ں سے ملاقات کر چکا ہو ں ۔اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔ انہو ں نے کہا کہ پاکستان کے بارے میں مغرب میں مثبت خبر بہت کم آتی ہے ،ہمیں ان عوامل کی کھوج لگانا ہو گی اور پاکستان کے لئے مثبت امیج کو آگے لانا ہو گا ، مقامی اردو میڈیا بہتر جانتا ہے ایسا کیوں ہے ؟ وہ بھی ہماری رہنمائی کرے۔کہ ہم اس منفی تاثر کو کیسے کم یا ختم کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے مثبت تاثر کو اجاگر کرنے کے لئے کلچرل سرگرمیوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔کلچرل پروگراموں کے لئے آپ لوگوں کا تعاون ضروری ہے پاکستان کا ٹرک آرٹ بیرونی دنیا میں پہچانا جاتا ہے میری کوشش ہو گی کہ میڈرڈ، بارسلونااور ویلنسیا میں ٹرک آرٹ کو نمایا ں کیا جا سکے اور مقامی ٹرانسپورٹ سے بھی بات چیت چل رہی ہے ۔کہ ان کے ذریعے بھی ہم اپنی ثقافت کو اجاگر کریں۔انہو ن نے کہا کہ پاکستان کے میوزک اور سیاحتی علاقوں کی تصاویر کی نمائش کے ذریعے بھی مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے ۔انہو ں نے کہا کہ اسپین میں کرکٹ کی کافی ٹیمیں ہیں میری خواہش ہو گی کہ کرکٹ، ہاکی، والی بال اور کبڈی کو یہاں مزید بڑھاوا دیں اور یہ کھیلیں یہا ں ہماری پہچان بنیں گی وہیں پر ہمارے بچوں کو اپنے ملک کے ساتھ بھی ہمیں وابستہ رکھیں گی۔آخر میں انہو ں نے کہا کہ اگر ہماری جانب سے کوئی غلطی ہو تو ہمیں اصلاح کا موقع ضرور دیں۔ کمیونٹی میٹنگ میں سوال وجواب کی بھی نشست ہوئی جس میں اصلاح، شکایات، تجاویز اور گلے شکوے کئے گئے۔ یاد رہے کہ سفارت خانہ پاکستان میدرڈ میں محترم رفعت مہدی کی ریٹائرڈ منٹ کے بعد ان کی جگہ جناب خیام اکبر اور قونصلیٹ آف پاکستان بارسلونا سے محترم قونصل جنرل مراد اشرف جنجوعہ کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد محترم جناب محمد عمران علی چوہدری نے چارج سنھبالا ہے۔ اور یہ پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ پہلی ملاقات ہوئی ہے۔