تارکین وطن کی خبریں
حلقہ کی عوام کے دلوں میں اُترنے والا ناصر احمد چھپر آخر کیوں نہیں ؟ ملک سعید اعوان/ ملک جبران انور

پچھلے پانچ سالوں کی مشقت کے بعداس حلقہ میں بہترین ٹیم تیار ہو چکی ہے علاقے سے ہر خاص و عام سے انکا مضبوط رشتہ استوار ہو چکا ہے،

پیرس ( اشفاق چوہدری)ن لیگ کی انتخابی صفوں میں اوتھل پتھل شروع ہو چکی ہے کیوںکہ اس بار تحریک انصاف نے آئندہ عام انتخابات کے لیے ضلع گجرات میں ق لیگ سے متوقع اتحاد کے ساتھ مضبوط ترین ٹیم اکھاڑے میں اتاری ہے جن کو الیکشن لڑنے کا بھی تجربہ ہے اور جن کی اپنے حلقوں میں سیاسی نبض کے اتار چڑھاؤ پر بھی مضبوط گرفت ہے

فرانس و یوکے میں موجود ملک سعید اعوان اورجبران انور نے میڈیا سےبات کرتے ہوئے مزیدکہا کے مجموعی طور پر تمام نشستوں کے لیے بہترین امیدوار اتارے گئے ہیں سوائے پنجاب اسمبلی کے حلقہ 33کے جہاں سابق ٹکٹ ہولڈر ناصر احمد چھپر کی بجائے کسی اور امیدوار کو ٹکٹ دیا گیا ہے جو کہ ظاہراً ہی کمزور فیصلہ لگ رہا ہے

ناصر احمد چھپر نے گزشتہ عام انتخابات میں اس حلقے سے نون لیگ کے خلاف الیکشن لڑا اور تمام تر سیاسی اور روائتی بد ترین مخالفت اور دھاندلیوں کے باوجود خاصے ووٹ حاصل کیے

نئی حلقہ بندیوں سے پہلے یہ پنجاب اسمبلی کا حلقہ 115تھا اور جو لوگ اس حلقہ کے پس منظر سے واقف نہیں تو ان کے لیے اتناجاننا ہی کافی ہے کہ یہ علاقہ ن لیگ کا مضبوط ترین گڑھ سمجھا جاتا ہے

ناصر احمد چھپرنے پچھلے عام انتخابات میں صرف چند ماہ کی کمپین سے خاصے ووٹ لیے اور ہارنے کے باوجود پچھلے پانچ سال اسی حلقہ میں لوگوں سے جڑے رہے ،خوشی و غمی میں ہر وقت ساتھ کھڑے رہے ،پچھلے پانچ سالوں کی مشقت کے بعداس حلقہ میں بہترین ٹیم تیار ہو چکی ہے علاقے سے ہر خاص و عام سے انکا مضبوط رشتہ استوار ہو چکا ہے

ناصر احمد چھپر اپنی محنت اور حسن سلوک کے ذریعے اس علاقے کی تنگ گلیوں سے ہوتے ہوئے لوگوں کے دلوں تک پہنچے کا راستہ بنا چکے ہیں اس لیے پارٹی قیادت سے درخواست ہے کہ کسی اور کی بجائے یہ ٹکٹ صرف اور صرف ناصر احمد کو دیا جائے کیونکہ نون لیگی مافیا کا مقابلہ ناصر احمد چھپر کے علاوہ کوئی اور نہیں کرسکتا ۔


واپس جائیں