تارکین وطن کی خبریں
پرتشدد جرائم پر کنٹرول کیلئے مزید قوانین کی ضرورت ہے، صادق خان

لندن(ودود مشتاق) لندن کے میئر صادق خان نے کہاہے کہ یہ بات ناقابل قبول ہے کہ لوگ کرمنل گینگز میں شامل ہوں یا سڑکوں پر خنجر لے کر گھومیں ،انھوں نے ملک میں پرتشدد جرائم میں اضافے کاذمہ دار حکومت کوقرار دیا ۔ناز لیگیسی فائونڈیشن کے زیر اہتمام "لندن یوتھ ڈنر" کے موقع پر جیو اور دی نیوز سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم اس حقیقت سے آنکھیں نہیں چراسکتے کہ نہ صرف لندن میں بلکہ پورے ملک میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہواہے اس کاسبب پولیس اور نوجوانوں کیلئے فنڈنگ میں کٹوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ لندن میں جرائم کی شرح بہت کم تھی لیکن گزشتہ چند ماہ کے دوران نہ صرف لندن بلکہ انگلینڈ ،ویلز اور پورے برطانیہ میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہواہے جبکہ گزشتہ 3 سال کے دوران انگلینڈ، ویلز،لیورپول،برمنگھم، مانچسٹر، کارڈف اور لندن میں پرتشدد جرائم کی شرح میں اضافہ ہواہے ۔انھوں نے کہا کہ جب آپ پولیس ،سروسز اورنوجوانوں کیلئے فنڈنگ میں کٹوتی کریں گے تو جرائم کی شرح میں اضافہ ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ہوم آفس اور سول سروسز بھی اب اس حقیقت کوتسلیم کررہے ہیں۔میں حکومت سے پولیس، سروسز اور نوجوانوں کیلئے مزید رقم دینے کیلئے لابنگ کررہاہوں کیونکہ اگر آپ ان شعبوں میں سرمایہ کاری نہیں کریں گے پرتشدد جرائم کو نہیں روکا جاسکے گا۔پرتشدد جرائم میں اضافہ ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ اس کی وجہ سے نوجوان گھر سے نکلتے ہوئے گھبراتے ہیں والدین ان کو گارڈ فراہم نہیں کرسکتے اس طرح یہ مسئلہ پورے ملک کامسئلہ بن چکاہے۔

حکومت کو فنڈز فراہم کرنے چاہئیں اور یہ فنڈز پولیس اور نوجوانوں پر خرچ کئے جانے چاہئیں کیونکہ گزشتہ7 سال کے دوران کوفنڈز کے حوالے سے730 ملین پونڈ کانقصان ہواہے اور اگلے کچھ دنوں میں مزید 350 ملین پونڈ کانقصان ہوجائے گا ،پورے ملک میں پولیس میں20 ہزار نفری کی کمی ہے ،3ہزارکمیونٹی سپورٹ افسر کم ہیں، پولیس کے عملے میں3ہزارافراد کی کمی ہے،تھانے بند ہورہے ہیں، جرائم پر کنٹرول کرنے اور عوام کے تحفظ کیلئے حکومت کو ہماری ضرورت کے مطابق فندز فراہم کرنے چاہئیں،پولیس کی نفری میں اضافہ کرنا چاہئے،ایک سوال کے جواب میں کہ کیا پرتشدد جرائم اور خنجر زنی کے واقعات سے دہشت گردی کی طرح نمٹاجانا چاہئے صادق خان نےکہا کہ حکومت نے بہت سے قوانین بنائے ہیں لیکن تیزاب لے کر چلنے سے متعلق قوانین میں سقم موجود ہیں۔انٹرنیٹ کمپنیاں جرائم کوبڑھاوا دے رہی ہیں۔حکومت کو اس حوالے سے ایک موثر قانون کو یقینی بنانا چاہئے۔،مجرموں کو سزا دی جانی چاہئے ججوں کو سنگین جرائم کاخاتمہ کرنے کیلئےمجرموں کو سخت سزا دینی چاہئے، ہمیں پرتشدد جرائم پر سختی کرنا ہوگی عدالتوں کوبھی سخت رویہ اپنانا ہوگا تاکہ کوئی نوجوان کرمنل گینگ میں شامل ہونے کو سوچ بھی نہ سکے۔

اس پورے عمل میں سب سے اہم بات عوام کاتعاون ہے، عوام کوسڑکوںپر نظر رکھنی چاہئےاور کہیں تشدد دیکھنے پر پولیس کی مد د کرنی چاہئے، اگر کسی کو خنجر ،بندوق لے کر گھومتے یا کرمنل گینگ میں شامل دیکھیں تو فوری پولیس سے مدد طلب کرنی چاہئے، تاکہ ہم سب محفوظ رہ سکیں، صادق خاں نے کہا کہ سوشل میڈیا بھی لوگوں کو اشتعال دلانے اور جرائم میں اضافے کاایک سبب ہے، گینگ لوگوں کومشتعل کرنے کیلیئے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں اورپھر خنجر اور بندوقیں لے کر سڑکوں پر نکل آتے ہیں اورقتل وغارتگری میں مصروف ہوجاتے ہیں۔انھوں نے کہاکہ اب یہ بات واضح ہے کہ سڑکوں پر خنجر اور بندوق بردار افراد یا کرمنل گینگز میں ان کی شمولیت کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہوسکتی۔ہم اس حوالے سے کونسلز، مقامی پولیس، مذہبی رہنمائوں ،شہری رہنمائوں اوروالدین کے ساتھ مل کر سخت محنت کررہے ہیں،تاہم حکومت پولیس کی نفری میں اضافہ کرکے ہمیں تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

حکومت کی امیگریشن پالیسی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ حکومت نے پالیسیوں کے ذریعے کشیدہ ماحول پیدا کردیاہے جس سے لوگوں خاص طورپر دولت مشترکہ کے ممالک کے لوگوں میں خوف کاماحول پیدا ہوگیا اس ماحول سے لوگ بہت خوفزدہ ہیں، مالکان مکان، این ایچ ایس اور سکولوں کی جانب سے امیگریشن کی حیثیت کی چیکنگ کے اختیارا ت کاعوام خیرمقدم نہیں کرسکتے، یہ کشیدہ ماحول کمیونٹی میں غیر یقینی پیدا کررہاہے حکومت کو خوف کاماحول پیدا کرنے کے بجائے تاجروں ،صنعت کاروں ،سیاحوں، اورطلبہ کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئےانھوں نےکہا مجھے خدشہ ہے کہ اس طرح کے خوف کے ماحول کی وجہ سے پاکستان، بھارت ،سری لنکا اور دنیا کے دیگر ممالک سے اہم افراد برطانیہ آنے سے گریز کرنے لگیں گے انھوں نے حکومت کو اس بدترین امیگریشن پالیسی کاذمہ دار قرار دیا انھوں نے اس حوالے سے خاص طورپر وزیر اعظم تھریسا کو اس کاذمہ دار قرار دیاجنھوں نے وزیر داخلہ کی حیثیت سے یہ اشتعال انگیز قوانین نافذ کرائے۔


واپس جائیں