تارکین وطن کی خبریں
بحیرہ روم، ہسپانوی ساحلی محافظوں نے مزید 500 تارکین وطن کو بچالیا

میڈرڈ/ ویانا(نیوز ڈیسک) ہسپانوی حکام نے بتایا ہے کہ گزشتہ ہفتے ساحلی محافظوں نے بحیرہ روم میں بھٹکنے والے 500 تارکین وطن کو بچالیا۔ بتایا گیا ہے کہ درجنوں کشتیوں پر سوار یہ تارکین وطن پُر خطر سمندری راستوں کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش میں تھے خبر رساں ادارے رائٹرز نے ہسپانوی حکام کے حوالے سے پیر کے روز بتایا کہ اتوار کے روز ساحلی محافظوں نے امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے ان تارکین وطن کو بچایا۔

یہ تارکین وطن 8کشتیوں پر سوار تھے جن میں سے 3 کشتیوں کی حالت انتہائی نازک تھی اور بعدازاں وہ ڈوب بھی گئیں۔ اس کارروائی سے ایک روز قبل یعنی ہفتے کو 9 کشتیوں پر سوار تقریباً 300 تارکین وطن کو بحیرہ روم کے پانیوں سے نکالا گیا تھا۔ حکام نے بتایا ہے کہ ان تارکین وطن کا تعلق شمالی افریقی اور زیریں صحارا کے افریقی ممالک سے ہے۔

امدادی اداروں کے مطابق حالیہ عرصے کے دوران شمالی افریقا سے اسپین آنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف لیبیا سے اٹلی اور یونان جانے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں کمی نوٹ کی گئی ہے۔ دوسری طرف یورپی سرحدی ایجنسی فرونیکس نے خبردار کیا ہے کہ رواں برس انہی سمندری راستوں سے اسپین پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

اس صورت حال میں آسٹریا کےچانسلر سیبا ستیان کرس نے کہا ہے کہ یورپی سرحدوں کے محافظ مستقبل میں شمالی افریقا میں بھی ذمہ داریاں نبھاسکتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ اس طرح بحیرہ روم کے ذریعے یورپ کی جانب ہونے والی نقل مکانی کو روکا جاسکتا ہے آسٹریا کے چانسلر سیاستیان کرس نے اس تناظر میں انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ یورپ کی بیرونی سرحدوں کے نگراں ادارے فرونیکس کو اس حوالے سے ایک نیا مینڈیٹ چاہیے ہوگا۔ اس نئے مینڈیٹ میں ان ممالک کی رضا مندی بھی شامل ہو گئی، جن میں سرحدی محافظین کو تعینات کیاجانا ہوگا۔


واپس جائیں