میڈیا آزاد ہے یا یرغمال ،کے نام سے ایمسٹرڈیم میں سیمینار ، پینل میں فاروق سلہریا اور حامد میر شامل ہوئے۔
ہالینڈ(اشفاق چوہدری)سیمنار میں فاروق سلہریا نے حسب روایت ہرزا سرائی کی اور زمہ داری آسانی سے پاکستانی اداروں پر ڈال دی جو کہ پاکستان مخالف لوگوں نے وطیرہ بنایا ہوا ہے۔
جب حامد میر کی باری آئی تو حامد میر صاحب نے حسب معمول پوری بات انٹر نیشل میڈیا کے سامنے رکھی اور اصل زمہ داران یعنی پارلیمنٹ نے قانون سازی نہیں کی اور سیاسی پارٹیوں میں جمہوریت نا پید ہے۔ اس لئے سب کچھ ہو رہا ہے۔ سیمنار میں موجود کُچھ پاکستانی بھگوڑے نام نہاد ایکٹوسٹ اور پاکستان مخالف ممالک کے ایکٹیوسٹ نما ایجنٹ بھی موجود تھے حامد میر نے لیکچر کا آغاز بڑے دبنگ طریقہ سے کیا مگر سوال و جواب کے وقفے میں پاکستان مخالف ایجنٹس نے حامد میر سے اپنے من پسند الفاظ نکلوانے کی کوشش کی لیکن سینئر صحافی نے بڑے تحمل سے انکے جوابات دئیے جس پر اُن کی تسلی نا ہوئی حامد میر نے مزید کہاکہ منظور پشتین چھپ چھپ کر فوج سے ملتا ہے اور ادارے انکے تحفضات سے آگاہ ہیں اور جلد ہی اُنکا حل نکال لیا جائے گا۔غیر ملکی ایجنٹوں کا ایجنڈا مکمل نا ہو سکا تو جنگ اور جیو کو بُرا بھلا کہتے وہاں سے چل دئیے۔