تارکین وطن کی خبریں
پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور پر خاتون کی عزت لوٹنے کا جرم ثابت ہوگیا، 12 سال قید

لوٹن / لندن (نمائندہ خصوصی ) 38سالہ شادی شدہ پاکستانی اوریجن ہوبر ٹیکسی ڈرائیور محمد خرم درانی کو ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ نے جمعرات 10مئی کو ایک 27سالہ مسافر خاتون جو ڈرنک کیے ہوئے تھی کی عزت لوٹنے کا مجرم قرار دے دیا ہے، پولیس پریس ریلیز کے مطابق نارتھ ویسٹ لندن میں خاتون کی عزت سے کھیلنے کا واقعہ 23جولائی 2016 کو پیش آیا تھا جب کہ اخبار ایوننگ سٹینڈرڈ کے مطابق خرم درانی نے اپنی گاڑی میں عزت لوٹنے کے علاؤہ خاتون کے ساتھ سیلفی بھی بنائی تھی جب کہ خاتون کا کم از کم ایک بریسٹ ایکسپوز تھا۔ عدالت میں درانی نے یہ موقف اختیار کیا کہ اس نے مزکورہ عورت کے ساتھ رضامندی سے جنسی تعلق قائم کیا تھا اور اس نے ریپ اور جنسی بدسلوکی کے الزامات سے انکار کیا مگر جیوری نے یہ دعویٰ مسترد کر دیا

جبکہ عدالت نے اسے خاتون کی عصمت دری کے جرم میں بارہ سال اور جنسی بدسلوکی کے جرم میں آٹھ سال قید کی سزا سنائی ہے دونوں سزائیں ساتھ ساتھ چلیں گی اور اسے زندگی بھر جنسی مجرموں کے رجسٹر پر بھی رکھا جائے گا خرم درانی کو سزا مکمل ہونے کے بعد پاکستان ڈی پورٹ کر دیا جائے گا جج نے یہ بھی واضح کیا کہ درانی کے اس عمل نے خاتون کی زندگی تباہ کردی جب کہ تفتیش کار نے کہا ہے کہ مزکورہ عورت نے گڈ فیتھ میں ٹیکسی بک کی تھی مگر درانی نے خاتون کی حالت سے ناجائزفائدہ اٹھا کر اسے ریپ کیا ،اس واقعے کے خاتون کی زندگی پر بہت منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزکورہ عورت کی جرأت کی تعریف کی کہ اس نے پولیس کو اطلاع دی اور کیس کے دوران باہمت ہونے کا ثبوت دیا اور ساتھ ہی یہ بھی زور دیا ہے کہ اگر کسی اور کے ساتھ درانی نے زیادتی کی ہو وہ تفتیش کاروں سے رابطہ کرے۔ جبکہ اخبار دی انڈی پنڈنٹ کے مطابق مذکورہ ٹیکسی فرم ہوبر کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ یہ ایک خوفناک واقعہ تھا اور وہ سزا کا خیر مقدم کرتے ہیں اور واضح کیا کہ انہیں جیسے ہی علم ہوا تھا فرم نے اس کےلائسنس سےپرائیویٹ ہائر ڈرائیور سے کمپنی کا ایپ ہٹا دیا تھا اور انہوں نے میٹرو پولیٹن پولیس سے مکمل تعاون کیا۔


واپس جائیں