امریکی سفارتکاروں پر پابندیاں، پاکستان کا بڑا فیصلہ.وسیم رضا
امریکی سفارتکاروں پر پابندیاں، پاکستان کا بڑا فیصلہ: اداریہ انڈیا اور افغانستان کی جانب سے چھیڑی گئی پراکسی وار کے خلاف دفاعی پوزیشن پر بیٹھے پاکستان کیلئے امریکی سفارتکاروں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کرنا ایک بڑا فیصلہ ہے۔ جس کے نتائج کی د فترِ ِ خارجہ نے یقینا تیاری کر لی ہوگی۔
سی آئی اے کا ڈاکٹر شکیل آفریدی کو انھی تواریخ میں جیل توڑ کر رہا کروانے کا منصوبہ محض اتفاق نہیں تھا، جن تاریخوں میں انھوں نے ایبٹ آباد میں بلا اجازت اتر کر اپنے مطلوبہ شخص تک رسائی حاصل کی تھی ، لیکن آئی ایس آئی کی بروقت کاروائی سے دنیا کی طاقتور اور فعال خفیہ ایجنسی کو اس بار ایک مبینہ جاسوس کے حوالے سے سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ملتی جلتی ایک تاریخ میں امریکہ نے پاکستانی سفارتکاروں اور ان کے اہلخانہ کی امریکہ میں 40 کلومیٹر تک نقل و حرکت محدود کردی جس کو دس روز کیلئے موخر کر کے گزشتہ روز اسکا اطلاق کر دیا۔ اب پاکستان کی باری تھی، ویانا، ویانا استثنی استثنی کی پنگ پانگ گیم میں الجھا رہتا یا فیصلہ کرتا، اور آج پاکستان نے فیصلہ کر ہی لیا، وازرتِ داخلہ نے نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا۔ اور واضح کیا کہ اس کا اطلاق فی الفور ہو گا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان میں تعینات امریکی سفارت کاروں کو نقل و حرکت سے پہلے دفترِ خارجہ سے اجازت لینی ہوگی، ایک سے زیادہ پاسپورٹ نہیں رکھ سکیں گے، سفارت خانے کی آفیشل گاڑیوں پر نان ڈپلومیٹک نمبر نہیں لگایا جاسکے گا، عمارتوں کے حصول اور تبدیلی کیلئے این او سی لینا پڑے گا،سفار خانے کی اپنی اور رینٹ پر لی گئی گاڑیوں پر کالے شیشے نہیں لگیں گے، سفارت کاروں کو بائیو میٹرک تصدیق کے بغیر فون سمز جاری نہیں کی جائیں گی۔ امریکی کارگو سکینگ کے بغیر نہیں جانے دیا جائے گا۔ امریکی سفارت خانے کے اہلکاروں پر آج سے قبل اس نوعیت کی پابندیوں کی کوئی مثال نہیں ملتی ! وزیرِ خارجہ غلام دستگیر نے بتایا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی اسلام آباد پر دباؤ کی کاروائی کے بعد جوابی اقدام کے بعد ورکنگ سطع پر امریکہ سے کوئی رابطہ نہیں۔ سفارتی سطع پر ممالک کے مابین مختلف نوعیت کی پابندیاں معمول کی بات ہوتی ہیں، لیکن امریکہ اور پاکستان ایک دوسرے کے ساتھ دشمن ملکوں والا سلوک کیوں کر رہے ہیں؟ پاکستان اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے یہ دباؤ کب تک برداشت پائے گا؟ ان دونوں سوالوں سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ امریکہ کے پیشِ نظر وہ کون سے مقاصد یا معلومات تھیں جن کی بنیاد پر اسے اپنے ملک میں پاکستانی سفارتکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کی نقل و حمل محدود کرنا پڑی؟