تارکین وطن کی خبریں
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا ۔ میری پارٹی میری ماں ۔ صغیر اصغر

ممتاز سیاسی وسماجی شخصیت سابقہ میڈیا ایڈوائزر پاکستان پیپلزپارٹی فرانس اصغر صغیر کی حالیہ فرانس اور یورپ میں پیپلزپارٹی کی طرف سے اناؤنس کیے گئے عہدوں پر سخت برہمی کا اظہار اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں اور میرے پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور نہ ہی کسی تعرف کے محتاج ہیں ۔میں نے آج سے 35سال قبل فرانس میں پہنچ کر پاکستان پیپلزپارٹی کے لیے جدو جہد شروع کی ۔ پاکستان پیپلزپارٹی واحد پاکستانی سیاسی پارٹی تھی اس وقت جسے فرانس میں باقاعدہ رجسٹرڈ کروایا اور پچھلے 35سال سے آج تک بہت سی شخصیات کو اوپر چڑھتے اور پھر نیچے اترتے دیکھا میری پاکستان پیپلزپارٹی سے وفادار ی اور محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔میں کل بھی پارٹی کے لیے ایک ادنیٰ ورکر کی حیثیت سے ورک کرتا رہا ہوں اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا۔لیکن مجھے آج یہ دیکھ کر انتہائی دکھ ہوا کہ پاکستان پیپلزپارٹی میں آج ایسے لوگوں کو یورپ میں عہدے سونپ دیے گئے ہیں جن کا پارٹی کے لیے کسی بھی قسم کا ورک نہیں ہے کوئی ان سے پوچھے تو سہی کہ انہوں نے اپنے حلقوں میں یا یورپ میں کسی بھی پلیٹ فارم پر کہیں ایک تقریر بھی پارٹی کے لیے کی ہو کام کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ان کی کون سی ایسی خدمات تھیں جنہیں واضح کیا جائے کہ ان کی پیش نظر اتنے بھاری بھاری عہدے دیے گئے ہیں کسی کو یورپ کا صدر تو کسی کو فرانس کا صدر بنا دیا گیا۔ میرا تعلق گجرات سے ہے اور پاکستان میں گجرات اور منڈی بہاؤالدین کے علاقے سے زیادہ تر تعداد یورپ میں مقیم ہیں میں نے پاکستان پیپلزپارٹی کا وہ دور بھی دیکھا ہے جب ضیاء الحق آمر نے دیار غیر میں بسنے والے پاکستانیوں کے لیے یہ آرڈر دیے تھے کہ سفارتخانے ایسے لوگوں کی لسٹیں بنائیں جو یورپ میں ضیاء کے خلاف بھٹو ازم کا پرچار کرتے ہیں اور بھٹو ازم کو پھیلاتے ہیں ہم نے اس آرڈر کے خلاف سفارتخانوں کے سامنے احتجاج بھی کئے اور بھوک ہڑتالیں بھی کیں میں نے ذاتی طور پر کتنے لوگوں کو پاکستان پیپلز پارٹی فرانس میں متعارف کرایا ۔ ہمیشہ تمام لوگوں کے ساتھ بطور ایک ورکر کام کیا ہے کبھی عہدے کےلئے لٹرائی نہیں ورکرز کے ساتھ اصولوں پر کھڑا رہا ہوں میرے بھائیوں میں یہاں کسی کو تنقید کا نشانہ نہیں بنا نا چاہتا میرا مداوا صرف اتنا ہے کہ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے آج سے دوسال قبل 13اگست کو بلاول بھٹو زرداری سے ناروے میں ملاقات کی ۔ بلاول بھٹو زرداری ہی پاکستان کے لیے آخر امید اور روشنی کی کرن ہے اور ملک کو ایسے مقام پر لیجانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جہاں ان کے نانا شہید ملت ذوالفقار علی بھٹو کا خواب تھا ۔آج جو کھیچا تانی چل رہی ہے اور دوسال قبل سے یہ سنا جا رہا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری یورپ کی باڈی کی تنظیم نو کو دیکھے گے لیکن کچھ ذاتی وجوہات کی بناء پر بلاول بھٹو زرداری کو اور اعلیٰ قیادت کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے یہ فیصلے ہوئے ۔ ہم پاکستان پیپلزپارٹی کے لیے کل بھی وفادار تھے اور آج بھی ہیں اور آج ہم دوستوں نے جن میں اجمل خان ، صوفی سرفراز، اشتیاق خان ، ملک اللہ یار ، ملک منیر ، ملک رزاق ، شہزاد بھٹی ، افضل خان ، عباسی صاحب اور کامران گھمن یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان پیپلزپارٹی کا قیمتی سرمایہ ہیں ۔ ہم نے پاکستان سے آنے والے یہ جو ٹویٹ پر ، سوشل میڈیا پر عہدے دیے گئے ہیں ہم کفایت نقوی ، صدیقی صاحب کو بہت اچھے سے اور کافی عرصے سے جانتے ہیں ان میں کوئی شک نہیں کہ وہ پارٹی کا سرمایہ ہیں اور ان کی پارٹی کے لیے بے شمار خدمات ہیں لیکن جن صاحب کو فرانس میں صدر کا عہدہ سونپا گیا ہے میرا کل بھی ان سے یہ سوال تھاآج بھی یہی سوال ہے کہ آیا مجھ سے زیادہ ، جمل خان سے زیادہ ، صوفی سرفراز سے زیادہ ، اشتیاق خان سے زیادہ ، ملک اللہ یار سے زیادہ ، ملک منیر سے زیادہ ، ملک رزاق سے زیادہ ، شہزاد بھٹی سے زیادہ ، افضل خان سے زیادہ ، عباسی صاحب سے زیادہ اورادنیٰ ورکر کامران گھمن سے زیادہ ان کی کونسی خدمات ہیں جن کی بنیاد پر انہیں ان تغمات سے نوازا گیا ہے نہ کوئی کمیٹی بنی نہ کوئی مشاورت یا تحقیق کی گئی وہی ہوا جو آج سے پہلے ہوتا آر ہا ہے ہم اس کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ ہم کامران یوسف گھمن کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے ہرمقام پر چاہے گرمی ہو یا سردی طوفان ہو یا آندھی ہم بھٹو شہید کے سپاہی فرانس میں کامران گھمن کے ساتھ ملک کر پارٹی کے لیے ویسے ہی کام کریں گے ویسے ہی پارٹی چلائیں گے جیسے پچھلے 12سالوں سے چلا رہے ہیں ہماری وفا بھٹو ازم کے ساتھ کبھی بھی تبدیل نہیں ہو گی ۔ اگر کوئی صاحب ہمارے ساتھ ملنا چاہتے ہیں ہمارے ساتھ مل کر زم ہونا چاہتے ہیں تو ہمارے دروازے ہمشہ کھلے رہیں گے۔ فیس بک اور سوشل میڈیا پر کچھ حضرات جو نامعلوم ہیں اور اپنے آپ کو نامعلوم صحافی اور نابالغ بچے لکھتے تھے آج وہ بھی تبصروں میں بہت باکردار اور بہت جانفشاں ساتھی کی صور ت نظر آرہے ہیں ان ہوا کے جھونکوں اور پانی کے بلبوں کو میری ایک نصیحت ہے کہ اصغر صغیر کا نام پاکستان پیپلزپارٹی میں کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے وہ کل بھی ایک کارکن ہے اور آج بھی ایک کارکن کی حیثیت سے آخر صف میں کھڑا کامران گھمن کے ساتھ نظر آئے گا۔ پاکستان زندہ باد پاکستان پیپلز پارٹی پائندہ باد۔جیئے بھٹو


واپس جائیں