پیپلز پارٹی یورپ کی تنظیم نو،علاقائی اور برادری ازم کا شکار، پاکستان پیپلز پارٹی فرانس کے دیرینہ ورکرز اور جیالوں کی پریس کانفرنس
فرانس( مانیٹرنگ ڈیسک)یورپ میں جیالے پھٹ پڑے پیرس فرانس پاکستان پیپلز پارٹی اوورسیز کمیٹی کی طرف سے یورپ میں نامزدگیوں کے معاملے میں شدید صدمے کا شکار میرٹ کی دھجیاں اڑا دی گئیں من پسند افراد کو علاقائی اور برادری کی بنیاد پر عہدے بانٹنے پر کارکنوں میں شدید ناراضگی
تفصیل کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی اوورسیز کمیٹی نے یورپ میں پچھلے ڈیڑھ سال سے زیادہ معطل تنظیموں کے لئے نئے عہدے داروں کا اعلان کردیا فرانس جرمنی اٹلی ناروے اور یونان میں نئے تنظیمییں قائم کی گئیں جونہی سوشل میڈیا پر ان عہدیداروں کا اعلان ھوا پورے یورپ میں جیالوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی جیالے ان ناموں کو دیکھ کر حیران اور پریشان رہ گئے کہ ان میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جن کا پیپلزپارٹی میں کوئی کام نھیں تھا ان کا واحد پلس پوائنٹ اوورسیز کمیٹی کے کسی نہ کسی ممبر سے علاقے یا برادری تعلق ھے بعض عہدیداروں کی تو تعلیم بھی اتنی نھیں کہ وہ کسی عام سنٹرل کمیٹی کے رکن بن سکیں چہ جائیکہ انھیں ڈائریکٹ صدر کے عہدے پر نافذ کردیا جائے حالانکہ پورے یورپ میں ایسے کارکن اکثریت سے موجود ھیں جنہوں نے اپنی پوری پوری زندگی پارٹی کے لئے وقف کردی ھے پارٹی کے مخلص اور پرانے کارکنوں کو اس بری طرح نظرانداز کیا گیا ھے کہ اکثر دل برداشتہ ھوکر پارٹی سرگرمیوں سے لاتعلقی کا سوچ رھی ھے جیالوں نے اپنے غم وغصے کا اظہار کرتے ھوئے کہا کہ اوورسیز کمیٹی نے یورپ کے کارکنوں کے ساتھ دھوکہ کیا ھے انیوں نے کہا کہ ھمیں کہا گیا تھا کہ اوورسیز کمیٹی کے سربراہ خود یورپ کا دورہ کریں گے اور کارکنوں سے مشورہ کرنے کے بعد تمام نام بلاول بھٹو زرداری صاحب کے آگے پیش کردئے جائیں گے بعد میں چئرمین خود امیدواروں سے انٹرویو کرنے کے بعد عہدیداران کا اعلان کریں گے لیکن یہاں تو اچانک ایک دھماکہ کرکے تنظیمی امور کا اعلان کردیا گیا اس تنظیمی فیصلے کے خلاف پورے یورپ میں احتجاج شروع ھوگیا ھے اس سلسلے میں مختلف ممالک میں پریس کانفرنسز کا اعلان ھو چکا ھے پیرس میں پرانے اور حقیقی کارکنوں کا ایک اجلاس ھوا جس میں اس فیصلے کو مسترد کردیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ اس فیصلے کو واپس لیا جائے آج 6 مئی بروز اتوار کو پیرس میں ایک مقامی ریسٹورنٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی یورپ کے سابق کوآرڈینیٹر کامران یوسف گھمن سابق جنرل سیکریٹری منیر احمد ملک سابق نائب صدر اجمل خان ترین سابق میڈیا ایڈوائزر صغیر اصغر سابق سیکریٹری فنانس صوفی محمد سرفراز سنٹرل کمیٹی کے سابق چئرمین مرتضے عباسی یوتھ ونگ کے سابق صدر ملک عبدالرزاق سابق اسسٹنٹ سیکریٹری لطیف الرحمن اعوان کلچر ونگ کے سابق صدر ملک اللہ یار کشمیر ونگ کے سابق صدر چوھدری افضال مینیارٹی ونگ کے سابق صدر شہباز بھٹی سابق سٹوڈنٹ لیڈر قاضی عامر سنٹرل کمیٹی کے اراکین سعود اور اشتیاق خان کے علاوہ درجنوں کارکنوں نے شرکت کی کامران گھمن نے کہا کہ ھمیں لگتا ھے کہ یہ فیصلہ چئیرمین صاحب کی لاعلمی میں کیا گیا ھے اس میں برادری ازم کا فروغ اور علاقائی تعصب کی جھلک نظر آتی ھے انیوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک ترقی پسند پارٹی ھے اور برادری ازم کے سخت خلاف ھے تو بلاول بھٹو سے ایسی توقع نھیں کی جاسکتی کہ ان کی طرف سے ایسا فیصلہ کیا جا سکے کارکنان پیپلز پارٹی فرانس نے اس فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ھوئے بلاول بھٹو زرداری سے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کی تحقیق کی جائے کی اس طرح کی تنظیم سازی کیوں کی گئی جس سے پیپلز پارٹی یورپ کو تباہ کرنے کی گھناونی سازش کی گئی ھے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان تمام نامزدگیوں کو معطل کیا جائے یورپ میں نئے عہدیداران کا تقرر میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے یا دوسری صورت میں پورے یورپ میں ممبر شپ کا آغاز کرکے باقائدہ الیکشن کرایا جائے اور فیصلہ کارکنوں پر چھوڑ دیا جائے کامران گھمن اور دیگر نے اپنے دکھ کا اظہار کرتے ھوئے کہا کہ اس طرح کے فیصلوں سے نظریاتی طور پر پارٹی کو شدید نقصان پہنچتا ھے اور جو اصلی اور حقیقی کارکن بددل ھوکر مایوسی کے عالم میں گھر بیٹھ جاتے ھیں اور آھستہ آھستہ پارٹیاں ایک گم گشتہ ورق کی صورت اختیار کر لیتی ھیں پارٹی کو متحرک اور فعال رکھنے کے لئے میرٹ پر تنظیمیں قائم کرنا ازحد ضروری ھیں