تارکین وطن کی خبریں
مسلمان مہاجرین اور تارکین وطن کو یورپی یونین کی تمام رکن ریاستوں میں بسانا، ہنگری آئین میں ترمیم کا خواہاں

ہنگری کی حکمران جماعت فیدیس پارٹی ملکی آئین میں ترمیم کی خواہاں ہے تاکہ یورپی یونین ہنگری میں مہاجرین کی آباد کاری کے لیے اس ملک کو مجبور نہ کر سکے۔ ہنگری کی نیوز ایجنسی نے یہ بات پارلیمانی سربراہ کے حوالے سے بتائی ہے۔ ہنگری اور مشرقی یورپ کی کئی دیگر سابقہ کمیونسٹ ریاستیں یورپی یونین کی ان کوششوں کی سخت مخالف ہیں جن کا مقصد یورپ کا رُخ کرنے والے ایسے مسلمان مہاجرین اور تارکین وطن کو یورپی یونین کی تمام رکن ریاستوں میں بسانا ہے جو سیاسی پناہ کی تلاش میں یہاں پہنچے۔ ہنگری کے موجودہ وزیر اعظم وکٹور اوربان نے اس حوالے سے ایک آئینی ترمیم کی تجویز 2016ء میں ملکی پارلیمان میں پیش کی تھی تاہم اپوزیشن جماعت یوبِک کی طرف سے اس ترمیم کی مخالفت کے باعث پارلیمان میں اس کی منظوری کے لیے درکار دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہو پائی تھی۔ تاہم آٹھ اپریل کو ہونے والے انتخابات میں اوربان کی جماعت فیدیس پارٹی نے نہ صرف مسلسل تیسری مرتبہ کامیابی حاصل کر لی بلکہ اسے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت بھی حاصل ہو گئی ہے۔ جس کے بعد یہ جماعت آئین میں ترامیم کے قابل ہو گئی ہے۔ ہنگری کی نیوز ایجنسی MTI نے پارلیمانی سربراہ میٹ کوکسس کے حوالے سے بتایا ہے کہ پارلیمنٹ "اسٹاپ سوروس" نامی ایک قانونی بِل پر بھی بات کرنا چاہتی ہے جس کے تحت ہنگری میں غیر سرکاری تنظیموں کے حوالے سے قوانین کو سخت بنایا جانا ہے۔ ان میں ہنگری میں پیدا ہونے والے امریکی ارب پتی جارج سوروس کی غیر سرکاری تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ ہنگری کے وزیر اعظم وکٹور اوربان سوروس پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ ہنگری میں مسلمان تارکین وطن کی بھرمار کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم امریکا میں آباد انسانی ہمدردی کے لیے کام کرنے والے جارج سوروس ایسے الزامات کی


واپس جائیں