تارکین وطن کی خبریں
جون کے آغاز میں پناہ گزینوں کی ملک بدری کے عمل کو تیز تر بنانے کے ہمہ گیر منصوبے کا اعلان کر دیا جائے گا۔جرمن وزیر داخلہ

جرمن وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر نے اعلان کہا ہے کہ رواں ماہ کے آخر یا جون کے آغاز میں پناہ گزینوں کی ملک بدری کے عمل کو تیز تر بنانے کے ہمہ گیر منصوبے کا اعلان کر دیا جائے گا۔

جرمنی کے وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر نے یہ بات آج بروز جمعرات جرمن روزنامے "پساؤر نوئے پریسے" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔ زیہوفر کا کہنا تھا،"ہمیں ایسے تمام مہاجرین کو اُن کے ملک واپس بھیجنے کے لیے قوانین سخت کرنے ہوں گے جنہیں جرمنی میں رہنے کا حق حاصل نہیں ہے۔"جرمنی بدر ہونے والے پناہ گزینوں کو اسی سبب کوئی رقم نہیں دی جائے گی بلکہ دیگر صورتوں میں امداد کی جائے گی۔علاوہ ازیں زیہوفر نے ترقیاتی اُمور کے وزیر گرڈ مولر کے ساتھ مل کر مہاجرین کے لیے ایک امدادی پروگرام شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے جسے بعد میں مہاجرین کی ملک بدری کے منصوبے کے ساتھ نتھی کر دیا جائے گا۔

ہورسٹ زیہوفر کا جرمن اخبار سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جب غیر ملکی افراد چند سالوں کے لیے جرمنی آتے ہیں تو اُن کی واپسی بہت مشکل ہوتی ہے اور ایسا اکثر ذاتی وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے۔ زیہوفر کے بقول یہ جلد طے ہونا چاہیے کہ جرمنی آنے والے مہاجرین میں سے کسے تحفظ کی ضرورت ہے اور کسے نہیں۔

جرمن وزیر داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ عارضی تحفظ حاصل کرنے والے پناہ گزینوں کے لیے سماجی انضمام نہیات ضروری ہے۔ سماجی انضمام کے بغیر لوگ گَیٹوز بنا کے رہتے ہیں۔ جو معاشرے میں بہتری کا باعث نہیں بنتا۔"گَیٹو" کی اصطلاح زیادہ تر دوسری عالمی جنگ کے برسوں میں مستعمل رہی تھی جب یہودیوں نے نازیوں کے خوف سے اپنے مخصوص رہائشی علاقے بنا لیے تھے۔ اس میں سے سب سے مشہور گَیٹو پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں قائم یہودی اقلیت کا رہائشی علاقہ تھا۔


واپس جائیں