یورپ مزید تارکین وطن کو اپنے ہاں جگہ دے، مہاجرین کے حقوق کے لیے سرگرم ساٹھ سرکردہ کارکنان کا مطالبہ
یورپ میں مہاجرین کے حقوق کے لیے سرگرم ساٹھ سرکردہ کارکنان اٹلی اور فرانس کی سرحد سے لندن تک مارچ کرتے ہوئے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ یورپ مزید تارکین وطن کو اپنے ہاں جگہ دے۔
انسانی حقوق کے یہ سرگرم کارکنان اطالوی قصبے وینتیمیگیلیا سے اپنے مارچ کا آغاز کر رہے ہیں۔ یہ افراد چودہ سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے اور ساٹھ مختلف علاقوں سے گزرتے ہوئے مختلف مقامات پر مقامی افراد سے گفتگو کریں گے اور انہیں مہاجرین اور تارکین وطن کو ان کے آبائی ممالک میں لاحق خطرات اور یورپ میں پناہ دے کر ان کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کی ضرورت کے موضوع پر شعور و آگہی دیں گے۔پیر کے روز اس آگہی مہم مارچ کا آغاز کرنے والوں میں عالمگریت کی مخالف معروف شخصیت اور یورپی پارلیمان کے فرانسیسی رکن خوزے بوو بھی شامل ہیں۔ اس مارچ کے آغاز پر لوگوں کے ایک ہجوم نے مارچ کے شرکاء کو خدا حافظ کہا۔ مارچ کا آغاز اٹلی سے سڑکوں، پیدل اور ریل کے ذریعے پہاڑی راستہ عبور کر کے فرانس داخل ہونے کی کوشش میں ہلاک ہونے والے 17 افراد کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی کے ساتھ کیا گیا۔ اس موقع پر گاڑیوں کے ذریعے کیے جانے والے اس مارچ کے آغاز پر کار پارکنگ میں بہت سے افراد موجود تھے۔تارکین وطن سے متعلق فرانسیسی تنظیم اوبرگ ڈیس مائیگرنٹس سے وابستہ مایا کونفورتی نے کہا، "آج ہمارے ساتھ بہت سے لوگ ہیں اور مجھے امید ہے کہ اس مارچ کی وجہ سے ہمیں مزید توانائی حاصل ہو گی۔" ان کا مزید کہنا تھا، "ہم تمام فرانس اور یورپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مارچ میں ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں، تاکہ ہم پوری توانائی اور عزم سے آگے بڑھیں۔"کاروں کا یہ کاروان اٹلی سے شروع ہو گا اور فرانس کو عبور کرتا ہوا، چینل ٹنل کے ذریعے لندن پہنچے گا۔ یہ بات اہم ہے کہ اٹلی اور فرانس کی اس سرحد پر حالیہ کچھ عرصے میں فرانس نے سکیورٹی میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور ان سرحدی علاقوں میں اب لوگوں کو پولیس بھی زیادہ دکھائی دینے لگی ہے، جب کہ شناختی دستاویزات کی جانچ بھی تواتر سے کی جا رہی ہے۔