تارکین وطن کی خبریں
توانائی کے شعبے میں تحقیق پر ڈاکٹر کامران کے لئے اچیومنٹ ایوارڈ

دی ہیگ(عظیم ڈار)سفارتخانہ پاکستان نیدر لینڈ میں تعینات سفیر پاکستان شجاعت علی راٹھور نے لیڈن یونیورسٹی سے فزکس کے شعبے میں پی ایچ ڈی کے فارغ التحصیل اور پاکستان کے نامور سائنس دان ڈاکٹر کامران کو جو ای یو پاک فرینڈشپ فیڈریشن نیدر لینڈز کے صدر بھی ہیں انہیں پاک ڈچ فورم کی جانب سے توانائی کے شعبے میں قابل تجدیدتحقیق میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے پر اچیومنٹ ایوارڈ دیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر کامران کا کہنا تھا کہ پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے توانائی کے جدید ذرائع کی طرف راغب ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انھوں نے وہاں مندوبین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کو بتایا کہ ترقی یافتہ ممالک اس بات کو سمجھ چکے ہیں کے سورج کی روشنی ہی توانائی کا ایسا ذریعہ ہے جو سب سے زیادہ دیر پا ہے اور بالآخر ہمیں اسی سے استفادہ کرنا ہو گا، کیوں کہ توانائی کے باقی سارے ذرائع نہ صرف ماحولیاتی تباہی کاباعث بنتے ہیں بلکہ اگلے پچاس سال میں تیل، گیس اور کوئلے کے ذخائر ختم ہو جائیں گے۔

ڈاکٹر کامران نے مزید بتایا کہ پاکستان میں سائنسی تحقیق کے بارے میں وسائل اور شعور کی کمی، ہمارے پالیسی ساز ماہرین کی جدید سائنسی علوم سے ناواقفیت ہی توانائی کے بحران کا سبب ہے اور پاکستان میں تحقیق اور انڈسٹری کے درمیان عدم تعلق سے ٹیکنالوجی کی راہوں میں ترقی کی رفتار بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ انھوں نے اپنی تحقیق کے دوران ایک ہائبرڈ سولر سیل بنایاہے جو کہ نہ صرف کم لاگت میں تیار ہوتا ہے بلکہ اس کی کارکردگی بھی موجودہ سولر سیل سے بہت بہتر ہے۔ڈاکٹر کامران نے کہا کہ وہ پاکستان میں ایک ایسے ادارے کے قیام کے لئے کوشاں ہیں جہاں توانائی کے شعبے میں کام کرنے والے سائنس دان اپنی تحقیق کو آگے بڑھا سکیں اور پاکستان میں موجود توانائی کے بحران کو ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکیں۔

انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ پاکستان میں ٹیکنالوجی کے حوالے سے کام کرنے کے لئے پر عزم ہیں اور وہ اس سے پہلے بھی کوشش کر چکے ہیں لیکن انہیں حکومت کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔ انھوں نے کہا کہ وہ پاکستان میں ملازمت کر کے محض تنخواہ لینے کے متحمل نہیں ہیں بلکہ صحیح معنوں میں پاکستان کی ترقی کی خاطر کام کرنا چاہتے ہیں۔آخر میں انھوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس باصلاحیت لوگوں کی کمی نہیں ہے اور بہت سارے پاکستانی سائنس دان دنیا بھر کے مختلف اداروں میں کام کر رہے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان میں انہیں کام کرنے کے لئے ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا جائے جہاں وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروے کار لاتے ہوئے اپنے ملک کی خدمت کر سکیں۔تقریب میں مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کے علاوہ پاکستانی کمیونٹی کے سیاسی سماجی رفاعی اور کاروباری حلقوں کی سرکردہ شخصیات اور یونیورسٹی کے طلبہ اور طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی


واپس جائیں