جرمنی ميں ساميت دشمنی کی نئی شکل، ہم ايک نئی صورتحال سے دوچار ہيں، عرب تارکين وطن ذمہ دار، جرمن چانسلر انجيلا ميرکل
جرمن چانسلر انجيلا ميرکل نے ملک ميں نئے قسم کے ساميت مخالف جذبات کی مذمت کی ہے۔ ان کے بقول عرب نژاد تارکين وطن کی وجہ سے جرمنی ميں ساميت دشمنی کی ايک نئی شکل سامنے آ رہی ہے۔
جرمن چانسلر انجيلا ميرکل نے عرب ملکوں سے تعلق رکھنے والے مہاجرين کی جانب سے ساميت مخالف جذبات اور عوامل کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے يہ بات ايک اسرائيلی ٹيلی وژن چينل کے ساتھ اپنے انٹرويو ميں اتوار بائيس اپريل کو کہی۔ انہوں نے کہا، "ہم ايک نئی صورتحال سے دوچار ہيں۔ ہمارے ہاں بہت سے مہاجرين ہيں، ان ميں عرب ملکوں سے تعلق رکھنے والے ساميت دشمنی کی يہ نئی شکل اپنے ساتھ لائے ہيں۔" جرمن چانسلر کا يہ موقف پچھلے ہفتے دارالحکومت برلن ميں ايک حملے کے تناظر ميں سامنے آيا ہے، جس ميں حملہ آور نے ایک ایسے شخص پر حملہ کر دیا تھا، جس نے یہودیوں کی مخصوص ٹوپی کِپّا پہن رکھی تھی۔ جرمن اخبار 'بلڈ' کے مطابق حملہ آور کا تعلق شام سے ہے اور وہ برلن کے ايک مہاجر کيمپ ميں رہائش پذير تھا۔ انجيلا ميرکل نے اسرائيلی نشرياتی ادارے کو اپنے انٹرويو ميں بتايا کہ ملک ميں بڑھتی ہوئی ساميت مخالفت کے انسداد کے ليے جرمن حکومت نے ايک کمشنر تعينات کر ديا ہے۔ انہوں نے کہا، 'يہ حقيقت کہ ملک ميں کوئی بھی اسکول، کوئی نرسری اور يہوديوں کی کسی بھی عبادت گاہ کو محافظوں کے بغير نہيں چھوڑا جا سکتا، ہميں پريشان کرتی ہے۔ 'اپنے اس انٹرويو ميں ميرکل نے يہ بھی کہا کہ ہولوکوسٹ کے تناظر ميں يہ جرمنی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اسرائيل کی سلامتی کو يقينی بنائے۔ تاہم انہوں نے اپنے سفارت خانے کو تل ابيب سے يروشلم منتقل کرنے کو خارج از امکان قرار ديا۔ اپنے انٹرويو ميں جرمن چانسلر نے اسرائيلی و فلسطينی تنازعے کے ليے دو رياستی حل پر زور ديا اور کہا کہ يروشلم کا مسئلہ بھی اسی کے ذريعے حل ہو سکتا ہے۔ ميرکل نے چھ عالمی قوتوں اور ايران کے درميان ڈيل کی بھی حمايت کی اور کہا کہ اسے جاری رکھا جانا ضروری ہے۔