کتاب کا عالمی دن اور کاتالونیا میں سانت جوردی کا تہوار
بارسلونا(آسر غفور سے )دنیا کی تاریخ شاہد ہے کہ کامیابی اور سرفرازی انہی قوموں کے حصے میں آئی جنہوں نے علم و تحقیق اور کتابوں کو اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا جبکہ علم و تحقیق کا دامن چھوڑنے والی قومیں ناکامی و نامرادی کا شکار ہو گئیں. ویسے تو کتابوں کا عالمی دن منانے کا آغاز سترہویں صدی کے دوسری دہائی سے ہی ہو گیا تھا۔عالمی ادارہ یونیسکو نے سانت جوردی کے تہوار کی مقبولیت اور انسانوں کی کتاب دوستی کو دیکھتے ہوئے 1995 میں اس دن کو ورلڈ بک ڈئے اینڈ کاپی رائٹس ڈے قرار دیا.کا نام دیا ۔اس دن کاتالونیا کے تمام چھوٹے بڑئے شہروں کی گلیوں ، بازاروں اور چوراہوں پر پھولوں اور کتب کے سٹال لگائے جاتے ہیں، جہاں خریداروں کا خوب رش دیکھنے کو ملتا ہے، اس دن مصنفین اپنے آٹو گراف کے ساتھ اپنی تصانیف اپنے چاہنے والوں کو دیتے ہیں،
اسپین کے صوبہ کاتالونیا میں سانت جوردی کا تہوار جوش وجذ بہ کے ساتھ منایاگیا ، اس تہوار پہ لوگ ایک دوسرے کو تحائف دیتے ہیں جو کہ مخصوص ہیں یعنی مرد خواتین کو پھول تحفے میں دیتے ہیں اور خواتین مردوں کو کتاب تحفے میں دیتی ہیں۔ہر سال کی طرح اس سال بھی بارسلونا کے اہم بازارو ں چوراہو ں میں پھولو ں اور کتابو ں کے اسٹال لگائے گئے ،رامبلہ روال پر پاکستانی ایسوسی ایشنزجن میں اردو دوست،ہم وطن اورکامینو لا پاژ نے بھی اسٹال لگا ئے یہا ں پر اردو کتا بیں فروخت کے لئے پیش کی گئیں۔ سانت جوردی کے تہوار کے موقع پر بارسلونا کے معروف سیاحتی مقام (لا رامبلہ)پر مختلف سیاسی و سماجی تنظیمات اپنے اسٹال لگاتی ہیں ،یہاں پر وہ پھولوں کے تحائف کے ساتھ ساتھ اپنی جماعت کا منشور بھی عوام تک پہنچاتے ہیں ۔ بارسلونا ایک ملٹی کلچرل شہر ہے یہاں پر دنیا بھر کے لوگ مقیم ہیں وہ بھی اپنے وطن کی تہذیب ،ثقافت اور زبان سے متعلق کتابوں اور دیگر اشیاء کے اسٹال لگاتے ہیں اور مقامی لوگوں کو اپنی ثقافت اور زبان سے متعارف کراتے ہیں ۔پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے پہلی بار لکھاری ڈاکٹر عرفان مجید راجہ کی کتاب دشت گماں کی تقریب رونمائی بھی کی گئی جس میں مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ ایشئین کمیونٹی کے لوگوں نے بھی شرکت کی اور سوال جواب کئے۔ سانت جوردی کے تہوار کے حوالہ سے مختلف افراد کا کہنا تھا سانت جوردی کے موقع پرکاتالونیا میں فلسفہ، تاریخ، سیاسیات، نفسیات اور عمرانیات،کھیل، بچوں کا ادب،شاعری،اوردیگر اصناف کی 200 کتابوں کو نامزد کیا ہے۔اس کے علاوہ کاتالونیا میں آزادی کی تحریک کو بھی کتاب اور پھولوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا آزادی پسند پیلے پھولوں کے ساتھ مختلف حکومتی اداروں میں اہم جہگوں پر پھول رکھتے اور آزادی کے نعرے لگاتے رہے۔ سابو جلا وطن صدر پوج دیمونت کو ایک کارٹون کیریکٹر میں پیش کیا گیا۔