تارکین وطن کی خبریں
سائبر کرائم اور سائبر دہشت گردی کو روکنے کے لئے ہمارے ملک میں گیٹ وے سسٹم اور مانٹیرنگ سسٹم کو بہترین ہونا چاہیے۔ زارا خان

یورپ (سجاد راجپوت) زارا خان نے سائبر کر ائم اور سائبر دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جیسے جیسے سائنسی ٹیکنالوجی جدید ہوتی جارہی ہے دن بدن مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اس سائبر دہشت گردی کو ہم نہیں بھول سکتے کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ جب ہم اپنی تصویر اپ لوڈ کرتے ہیں فیس بک انسٹاگرام پر اور جہاں تصویریں لی جاتی ہیں یہ سب ایک ریکارڈ بن رہا ہوتا ہے یعنی کون سی جگہ پر کب کس ٹائم اور کس ٹائم کس موبائل سے اور ہمارا سارا یہ ریکارڈ فیس بک کے پاس محفوظ ہوجاتا ہے حتی کہ ہم ڈیلیٹ بھی کردیں تب بھی حتی کہ میسج تک بھی وہ ان کے پاس محفوظ ہوجاتا ہے جس سے ہم غیر محفوظ نظر آرہے ہیں اور میں زارا خان یہ کہتی ہوں کہ مستقبل قریب میں جو جنگ ہو گی وہ بارڈر کی جنگ نہیں بلکہ بغیر بارڈر کے ہوگی جو کسی بھی جگہ بیٹھ کر لڑی جاسکے گی جیسا کہ سائبر حملہ ہمارے ملک پر بھی ہو سکتا ہے ابھی حال ہی میں چائنز ہیکرز نے ہمیں سائبر فنانشل اٹیک کیا ہے اس کے بارے میں لوگ جانتے ہوں گے کہ اس سائبر حملہ سے ہمارے ملک کو کتنا فائدہ اور کتنا نقصان ہوا یہ ایک مثال ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ کتنے سارے لوگ کیا منصوبہ بندی کر رہے ہیں اس پر نیپرا اور پی ٹی اے کو محتاط رہنا ہو گا اور دھیان رکھنا ہو گا کہ باہر سے آنیوالی کوئی بھی معلومات ہمارے ملک کےلئے محفوظ نہیں ہو سکتی اس پر ہمارے ملک کے ذمہ داران کو حکمت عملی اپناتے ہوئے گیٹ وے کے اوپر مانٹیرنگ سسٹم لگانا ہو گا تاکہ باہر کوئی بھی اپنے مقاصد کے لئے سائبر اٹیک کرنا چاہیں تو اس سے محفوظ رہ سکیں مثلا جس طرح مڈل ایسٹ کے اندر واٹس ایپ کو روک دیا گیا اس وقت تک واٹس ایپ نے منظور نہیں کیا جب تک ان کو گیٹ وے کے اوپر مانٹیرنگ سسٹم نہیں دئے گئے اور مڈل ایسٹ نے واٹس ایپ کو اس پر اجازت نہیں دی تھی کہ وہ ان کے ملک کی معلومات کو ڈائریکٹ حاصل کر سکیں ہمارے ملک کے بھی اسی طرح گیٹ وے سسٹم ہونا چاہیے اور مانٹیرنگ سسٹم اور اس پر ہماری سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے ملک کو محفوظ بنانے کے لئے ہر موضوع پر گفتگو کریں


واپس جائیں