تارکین وطن کی خبریں
آزاد ارکان شامل کرنے والے سیاسی جماعت کو نا ملا سکے" صرف ایم. کیو.ایم نے ہی پیپلز پارٹی کو سپورٹ کیا.سید شاہ خسرو جان الریاض سعودی عرب

آزاد ارکان شامل کرنے والے سیاسی جماعت کو نا ملا سکے" صرف ایم. کیو.ایم نے ہی پیپلز پارٹی کو سپورٹ کیا.سید شاہ خسرو جان الریاض سعودی عرب اگر غور کیا جائے اور ایک چیز کو نوٹ کیا جائے، تو اس سینیٹ الیکشن نے بہت سارے پول کھول دئے. جہاں اس میں پیسے کا بے دریغ استعمال ہوا، تو دوسری جانب جانب وفاداریاں تبدیل کرنے میں بھی کچھ عجیب سی مختلف انداز دیکھنے کو ملے. جہاں پیپلز پارٹی اور تحریک اپنے اتحادیوں سمیت جیت گئے. لیکن ایک چیز میں ان کی سیاسی ناکامی عیاں رہی اور آخری وقت تک وہ اس میں ناکام رہے.

پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے نے اپنے پوری جدوجہد کے باوجود بھی صرف ایم. کیو.ایم خالد مقبول گروپ کے علاوہ کسی بھی سیاسی جماعت کو اپنے ساتھ نہیں ملایا. انتہائی کوشش اور ملاقاتوں کے باوجود بھی وہ کسی بھی صورت کسی بھی سیاسی جماعت کو ساتھ ملانے میں بہرحال ناکام رہے. جماعت اسلامی، مولانا فضل الرحمن، عوامی نیشنل پارٹی، اچکزئی گروپ اور میرحاصل بزنجو سمیت کسی بھی سیاسی جماعت کو اپنے ساتھ نہیں ملا سکے. یہ بہرحال ان کی سیاسی ناکامی ہے. کیونکہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی جو کہ ملک میں سیاسی طور پر میدان میں ہیں. ان کو اگر سیاسی میدان میں کسی کیساتھ بھی ایڈجسٹمنٹ کرنا اتنا مشکل ہے تو مستقبل میں یہ کس طرح اتحادیوں کو ساتھ لیکر چلیں گے. ان انکو صرف ایم کیو ایم اور آزاد ارکان کی حمایت حاصل رہی. اگر آزاد ارکان ادھر ادھر ہوجاتے تو ان کیساتھ کوئی بھی سیاسی جماعت بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھا.

اس بات کا کریڈٹ بہرحال مسلم لیگ ن اور ان کے اتحادیوں کو جاتا ہے. کہ وہ کثیر یکجہتی سے مختلف سیاسی جماعتوں کا ایک فرم بنانے میں کامیاب رہے. اگر تھوڑا اس الیکشن کو سیریس لیا جاتا پیپلز پارٹی کے طرح اس الیکشن کو سیریس لیتے اور صحیح وقت پر مختلف آزاد ارکان سے رابطے کئے جاتے تو صرف 6 ممبران کے شامل ہونے سے یہ الیکشن جیت سکتے تھے. دوسری بات یہ کہ اسحاق ڈار کو سینیٹر نہیں بنانا چاہئے تھا. اگر ایک شخص ملک سے باہر ہے اور وہ اس وقت سینیٹ الیکشن میں ووٹ بھی نہیں ڈال سکتا اور موجودہ چیف جسٹس کے ہوتے ہوئے پاکستان بھی نہیں آسکتا تو ان کو سینیٹر بنانے کی کیا ضرورت پیش آئی تھا. ان کے جگہ پر کسی کارکن کو موقعہ دیا جاتا. اس طرح کے عوامل کو آئندہ نظر انداز نہیں کرنا چاہئے. شکریہ


واپس جائیں