تارکین وطن کی خبریں
مسلم لیگ (ن) کو اپنے کوتاہیوں سے سیکھنا ہوگا.زرداری صاحب کو بہرحال کریڈٹ دینا ہی ہوگا.سید شاہ خسرو جان

سعودی عرب(نمائندہ خصوصی) الریاض سعودی عرب ادنی کارکن پاکستان مسلم لیگ (ن)سید شاہ خسرو جان نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک زرداری سب پہ بھاری، آج انہوں نے حقیقت میں دیکھا دیا، لیکن اگر ان کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ والے بھی مل جائے تو پھر تو یہ موجودہ قومی اسمبلی کو بھی ایک منٹ میں ختم کرنے کی ہمت رکھتا ہے. جس انداز میں بلوچستان اسمبلی کو ختم نہیں کیا گیا بلکہ اندرونی تبدیلی لائی گئی. اس وقت سے حالات تبدیل ہوگئے تھے. کہ سینیٹ الیکشن میں تبدیلی دیکھنے کو ملی گی. زرداری نے ایک متحرک کردار ادا کیا، دن رات کراچی سے لیکر پشاور اور لاہور سے لیکر اسلام آباد تک ملاقاتیں کئے اور اس چیز کو کنفرم کیا کہ اب ہم سینیٹ الیکشن جیت جائیں گے. ہماری لیگی قیادت نے ان دنوں میں نان چنے اور حلیم کھانے کے سوا کچھ بھی نہیں کیا اور مخالفین نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا. ہم نے ایک ہفتہ صرف اس میں گزارا کہ رضا ربانی صاحب کو دوبارہ بنادیا جائے. جس طرح کا کھیل اسٹیبلشمنٹ اور ان کے رضاکاروں نے کھیلا. اس سے زیادہ اچھا کھیل مسلم لیگ ن اور ان کے اتحادی کھیل سکتے تھے. لیکن گرم حلیم کھانے کے شوق نے ہمیں جاتی عمرہ اور پنجاب ہاوس سے نکلنے نہیں دیا. ورنہ بہت کچھ ہوسکتا تھا. اگر وقت پر ایم کیو ایم پاکستان اور دیگر لوگوں کو تھوڑا بہت خوش کیا ہوتا تو نتیجہ بدل جاتا. آج جو نتیجہ آیا ہے. یہ اسٹیبلشمنٹ کے توقعات سے بھی زیادہ ہیں. ہمیں اپنی ناکامی تسلیم کرنی ہوگی. بے شک اسٹیبلشمنٹ نے ہمارے ساتھ گندہ کھیل کھیل لیا لیکن اس میں کچھ ہماری اپنے غلطیاں بالکل بھی شامل ہیں. اگر میاں صاحب نے سیاست کرنا ہے. تو پھر جلسوں سے ہٹ کر بھی سیاست کرے. متحرک شخصیت اور لوگوں کیساتھ لنکس سیاست میں بہت ضروری ہے. دوسری بات یہ کہ ان بڑے عہدوں کیلئے شخصیات کی نامزدگی بھی بہت ضروری ہے. پارٹی کے فعال اور عوامی مقبولیت رکھنے والے لوگوں کو ایسے عہدوں کیلئے چنا جائے. ممنون حسین صاحب جیسے صدر اور راجہ ظفرالحق صاحب جیسے چئیرمین شپ کے امیدوار ہمیں خود بالکل بھی قابل قبول نہیں. حالانکہ ذاتی طور پر دونوں شخصیات انتہائی قابل احترام اور معزز ہیں، لیکن ان عہدوں کیلئے بالکل بھی فٹ نہیں. آج کے الیکشن میں %50 مسلم لیگ ن اسٹیبلشمنٹ کیوجہ سے ہار گیا، اور %50 زرداری صاحب نے مسلم لیگ (ن) اور ان کے اتحادیوں کو ہرایا. اس کو قبول کرنا پڑیگا. میں ذاتی طور پر زرداری صاحب کے سیاست کا قائل ہوگیا ہو. پارٹی کو اپنے کوتاہیوں سے سیکھنا ہوگا. آج کی ہار پارٹی کے نالائقی کا پیش خیمہ ہے. آخری بات یہ ہے کہ ہر بات میں عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ سے ٹاکرا کرنے کی بھی ضرورت نہیں. اس ملک کے سیاست کو سمجھنا ہوگا. ورنہ ایسا چلنا مستقبل میں مزید مشکلات پیدا کریگا.


واپس جائیں