تارکین وطن کی خبریں
تارکین وطن کی مسائل"تحریر صحافی اکرام الدین

کہتے ہے کہ ہر کوئی اپنی مٹی اور اپنے گھر کیلئے انوکھے جذبات رکھتا ہے اس لئے تو کہتے ہے کہ اپنے گھر جیسا گھر نہیں ہوتا اور اپنے وطن جیسا وطن نہیں ملتا انسان جس گھر اور جس جگہ پیدا ہوتا ہے وہ گھر اور جگہ اسکے لئے بہت خاص ہوتے ہے اور انسان کو اس سے انسیت ہوتی ہے اور وہ گھر اور وہ ملک چھوڑنے کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے لیکن بعض اوقات انسان کو اتنی بڑی مجبوری گھیر لیتی ہے کہ وہ اپنا پیارا وطن اور خوشیوں بھرا گھر چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہے اور پردیس میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو جاتے ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ غربت اور بیروزگاری ہے جب ڈگریاں ہاتھ میں ہونے کے باوجود نوکری نہیں ملتی اور نوبت فاقوں تک جاپہنچتی ہے تو سب سے پہلا خیال باہر ملک جانے کا ہی آتا ہے لیکن امریکہ،یورپ اور دوسرے کئی ممالک جانے کیلئے جو کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے وہ انتہائی تکلیف دہ ہے

کیونکہ سب سے پہلے تو باہر ملک انے کے لئے پیسوں کا انتطام کرنا پڑتا ہے جو کہ ناممکن ہوتا ہے اس لئے زیادہ تر لوگ ان ممالک میں انے کے لئے دوسرے خطرناک اور دشوار راستوں کا انتخاب کرتے ہے جوکہ ایک انتہائی رسک ہے کیونکہ ان راستوں پر موت کا خطرہ کئی زیادہ ہوتا ہے اور زیادہ تر لوگ یہ تکلیفیں اور صحبتیں برداشت نہیں کر پاتے اور راستے میں ہی مر جاتے ہے اور ان کے پیاروں کو خبر تک نہیں ہوتی اس کے علاوہ اگر خوش قسمتی سے کوئی پہنچ بھی جائے تو سالوں سال کیمپوں میں پڑے رہتے ہے اور بہت سی مشکلات کا سامنا کرتے ہے جس میں کھانے پینے اور رہنے سہنے کی مشکلات سرفہرست ہے اگر کیمپوں سے نکل بھی جائے تو روزگار نہیں ملتا اور کھلے عام پھر نہیں سکتے بعض اوقات تو ان کو دس دس سال لگ جاتے ہے لیکن رہنے کی اجازت نہیں ملتی اور ان میں زیادہ تر پاکستان، افغانستان،انڈیا، اور بنگلہ دیش کے باشندے ہوتے ہے ان کے لئے انکی حکومت بھی کچھ نہیں کرتی اور یہ بیچارے دیارغیر میں اپنے پیاروں سے دور کسمپرسی کی زندگی گزارتے ہے اس لئے انکی گورنمنٹ کو چاہیے کہ اپنے سفارت خانے اور سفیر کے ذریعے اپنے شہریوں کے مسائل دریائے غیر میں حل کرے اور انکے لئے مثبت اقدامات کرے اور انکی جدوجہد میں ان کا ساتھ دے تاکہ ان لوگوں کو لیگل طریقے سے کام کاج کی اجازت ملے اپنے کنبے کی کفالت کریں اور جس مقصد کے لئے گھر بار چھوڑ آئے ہے اس مقصد کو پورا کر سکے.


واپس جائیں