مرکزی وزیر کا بیان عدالت عظمیٰ کی توہین گری راج سنگھ کے بیان پر مولانا سیدارشد مدنی کا سخت ردعمل
جرمن(رپورٹ چیف اکرام الدین سے)بابری مسجد معاملے کی سپریم کورٹ میں روزانہ سماعت شروع ہونے سے ٹھیک پہلے ہی مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے یہ کہتے ہوئے پورے معاملے کو گرما دیا ہے کہ کچھ بھی ہو رام مندر وہیں بنائیں گے، مرکزی وزیر کے اس بیان کو جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی نے راست طور پر عدالت عظمیٰ کی توہین قرار دیا اورکہاکہ ملک کے مسلمانوں کو مکمل اعتماد ہے، مرکزی وزیر کا یہ بیان ان کے لئے ہی نقصان دہ ثابت ہوگا۔بابری مسجد کا مسئلہ دہائیوں سے انصاف کا منتظر ہے، آٹھ فروری سے ملک کی سپریم کورٹ اب اس معاملے پر روزانہ سماعت کرے گی جس کے بعد اس معاملے پر آخری فیصلہ آنے کی توقع ہے، لیکن سماعت سے ٹھیک پہلے تنازعات کی وجہ سے بحث میں رہنے والے مرکزی وزیر گریراج سنگھ نے یہ بیان دیتے ہوئے پورا معاملہ گرما دیا ہے کہ کچھ بھی ہو رام مندر تو وہیں بنایا جائے گا۔ مرکزی وزیر کے بیان کو سپریم کورٹ کی توہین قرار دیتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کچھ اخبار نویسوں سے گفتگو کے دوران اپنے رد عمل کااظہار کرتے ہوئے دو ٹوک کہا کہ یہ بیان ملک عدلیہ پر حملہ ہے اب دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ عدالت عظمیٰ اس پر کیا کہتی ہے، مولانا نے مرکزی وزیر پر سیدھا حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ نہ الیکشن کمیشن کو کچھ سمجھتے ہیں، نہ ہی ملک کی خفیہ ایجنسیوں کو اور نہ ہی عدلیہ کو، مولانا نے کہا کہ مرکزی وزیر کہہ رہے ہیں کچھ بھی ہو رام مندر وہیں بنائیں گے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ ملک میں ایسا ہو سکتا ہے۔ مولانا نے کہا کہ جلد ہی بابری مسجد معاملے پر روزانہ سماعت شروع ہو جائے گی اس کے بعد جب فیصلہ آئے گا تب ہی پتہ چلے گا کہ وہاں کیا بنے گا اس سے پہلے کچھ بھی کہنے مکمل طور غلط ہے۔ مولانا نے دہرایا کہ ملک کے مسلمانوں کو عدالتوں پورا بھروسہ ہے اور انہیں امید ہے کہ جو بھی فیصلہ ہوگا وہ حقیقت اور ثبوتوں کی بنیاد پر ہو گا۔ مولانا ارشد مدنی نے مرکزی وزیر گری راج سنگھ کے بیان ملک میں رہنے والے تمام لوگ رام کی اولاد ہیں کا جواب میںدیتے ہوئے کہاکہ اگر سبھی رام کی اولاد ہیں تو دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں چھواچھوت اور نچلے درجہ کا سمجھا جاتاہے، مولانا نے سوال کیا کہ اگر سب رام کی اولاد ہیں تو دلتوں کو اپنے سے کنویں سے پانی کیوں نہیں پینے دیتے ؟، ان کو اپنے مندروں میں جانے کیوں نہیں دیتے ؟