تارکین وطن کی خبریں
کاتالونیا الیکشن: مراکشی نژادمسلم خاتون نجات ڈریؤچ کاتالان پارلیمنٹ میں پہنچ گئی

بارسلونا(بیورورپورٹ )کاتالونیا انتخابات میں ای آر سی جماعت کی جانب سے پہلی مراکشی نژاد ہسپانوی مسلم خاتون نجات ڈریؤچ کاتالان پارلیمنٹ میں پہنچ گئی ۔ای آر سی آزادی پسند جماعت ہے جس نے مسلم خواتین اور مردوں کو اپنی انتخابی فہرست میں جگہ دی تھی۔ نجات ڈریؤچ اپنی کمیونٹی سے پہلی لڑکی ہیں جنھوں نے ادب کا انعام جیتا اور یونیورسٹی گئیں۔

نجات ڈریؤچ 1990 میں اپنے والدین کے ساتھ مراکش سے کاتالونیہ آئیں اور اس وقت وہ صرف نو برس کی تھیں۔ انھوں نے بارسلونا کے ایک مضافاتی علاقے ماسنو کی مقامی کاؤنسل میں ایک کمیونٹی ورکر کے طور پر 17 برس تک کام کیا۔

نجات ڈریؤچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ، میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ میں پارلیمان کی پہلی مسلم خاتون رکن بن جاؤں بلکہ بہت سی آنے والی خواتین میں پہلی مثال۔، کسی بھی سیاسی جماعت کا رکن نہ ہونے کے باوجود انھوں نے اعلی سطح پہ تعصب کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھنے کے لیے ریپبلکن لیفٹ آف کاتالونیا یا ای آر سی کی انتخابی فہرست میں شامل ہونے پر اتفاق کیا۔ای آرسی کو امید ہے کہ وہ کاتالونیا کے اداروں کو مضبوط کرنے اور سپین سے علیحدگی کی مہم جاری رکھنے کے لیے آزادی کی حامی دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر اکثریت سے فتح حاصل کریں گی۔

مس ڈریؤچ کہتی ہیں کہ ، میں نے یہ قدم کاتالونیہ میں مشکل حالات کے دوران لیا ہے کیونکہ میرا یقین ہے کہ یہ معاشرے کے اس مہذب حصے یا اس اقلیت کے لیے ضروری ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ دوسری اقلیت دوسرے درجے کی ہے۔ کاتالونیہ میں 515000 مسلمان رہتے ہیں جو کل آبادی کا تقریبا 15 فیصد ہیں۔ مس ڈریؤچ کاتالونیہ میں اس تعصب کے خلاف لڑنے میدان میں آئی ہیں جسے وہ بعض سیاست دانوں کی طرف سے نسل پرستی کی ترغیب بھی قرار دیتی ہیں۔

سپین کے وزیر اعظم مایانو ریخوآیے کی معروف جماعت کے امیدوار ژاہویئر گارشیا البیول کے نعرے "بیدالونا کی صفائی"پر نسل پرستی کے خلاف مہم چلانے والوں کی طرف سے شدید تنقید ہوئی۔ انھوں نے یہ نعرہ اس شہر میئر ہوتے ہوئے لگایا جس نے وہاں موجود پناہ گزینوں کی ایک بڑی آبادی کو متاثر کیا۔مس ڈریؤچ کا کہنا ہے کہ کمیونٹی کاموں کے دوران بار بار ایسے کیسز سامنے آئے جس میں امتیازی سلوک کا سامنا ہوا جیسے کہ ان نرسوں کو ہسپتالوں میں قبول نہیں کیا گیا جوسکارف پہنتی ہیں اور ایسے گریجوئیٹس کی سی ویز نظر انداز کردی گئیں جن کے نام مسلم تھے


واپس جائیں