تارکین وطن کی خبریں
قاضی صاحب کے نام_ بابائے الریاض کو اللہ ہمیشہ سلامت رکھیں.سید شاہ خسرو جان

سعودی عرب(نمائندہ خصوصی) سندھ دھرتی سے تعلق رکھنے والے ہمیشہ نرم زبان، سیدھے سادھے، محبتوں کے امین، اولیاء اللہ سے گہرا لگاو، ادب سے انتہائی جڑے ہوئے، دوستوں کے دوست اور یاروں کے یار، سلیقہ مند اور احترام میں سب سے اول، مہمان نوازی میں بے مثال، شعر و شاعری سے آشنا، محفلوں کے رونق سے باخبر اور بے مثال خوش مزاج اور خوش طبیعت سمیت پر قسم کے صفات سے مالامال ہوتے ہیں. ان کے بارے میں مشہور ہے، کہ یہ لوگ جہاں بھی جاتے ہیں. محفل گلاب کے پتوں سے پلکیں بچھا کر ان کے استقبال کیلئے کھڑے ہوجاتے ہیں. کیونکہ یہ لوگ محفل پر قبضہ نہیں کرتے بلکہ اپنے عمل اور اخلاق سے اپنے لیے جگہ بناتے ہیں. اور آنکھوں کے بجائے دلوں میں مسکنیں تعمیر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں. جس میں ان کی کامیابی بے مثال ہے. الریاض شہر میں جہاں مختلف ملکوں اور خطوں سے تعلق رکھنے والے آباد ہے، وہی پر اس دھرتی کے رہنے والے بھی آباد ہیں. جسے سندھ دھرتی سے یاد کیا جاتا ہے. اس دھرتی سے تعلق رکھنے والوں میں ایک نام ایسا بھی ہے. جس سے اس پوری دھرتی کی پہچان ہے. بلکہ اس شخصیت کو اللہ نے اتنی عزت دی ہوئی ہے. کہ پاکستانی کمیونٹی کی پہچان ہی ان کے نام سے ہے . پر پارٹی کے لوگ ان کو اپنا سمجھتے ہیں. پر تنظیم کے لوگ ان کو اپنا رہبر سمجھتے ہیں. اور ان پر بات کو حرف آخر کا درجہ حاصل ہے. پر کمیونٹی پروگرام میں ان کے آمد کو لوگ فخر کے علامت کے طور پر سمجھتے ہیں. یہ کوئی اور نہیں بلکہ.. فخر ریاض ، بابائے ریاض جناب قاضی محمد اسحاق میمن صاحب ہے. جن کو محبتوں کا امین اور پیار و محبت کا دوسرا نام تصور کیا جاتا ہے، جن کو لوگ جھک کر سلام کرتے ہیں. اور ان کی خوبی دیکھو کہ وہ بھی سب کو برابر کے نظر سے دیکھتا ہے. یہ ہمارے کمیونٹی کا مشترکہ طور پر ایک جیسا بزرگ ہے. آج ایک معروف و مشہور کاروباری شخصیت جناب کاشف خان صاحب کیساتھ ان کے عیادت کرنے ان کے گھر گئے، اور ان کی بیمار پرسی کی. ان کے صحت کے حوالے سے ان سے آگاہی حاصل کی. چونکہ اس ہفتے میں ان کی طبیعت ناساز رہی تھی. اور کچھ طبعی مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا.جس پر کمیونٹی پریشانی سے دوچار تھی. لیکن ان کو دیکھ کر تسلی ہوئی کہ اب وہ الحمداللہ بہتر نظر آرہے تھے. اور ان کیساتھ ان کے گھر پر ایک طویل نشست ہوئی. مختلف حوالوں سے گفتگو ہوئی. اور دعاؤں کیساتھ وہاں سے رخصت ہوئے. اللہ آپ کو ہمیشہ سلامت رکھیں. امین ثم امین


واپس جائیں