انسانی سمگلروں کے ہتھے چڑھنے والا ایک اور پاکستانی جوہانسبرگ کی سڑکوں پر دربدر
جوہانسبرگ: لاہور، اسلام آباد اور سیالکوٹ سے ایجنٹ مافیا ہمارے نوجوانوں کو سنہرے خواب اور بائی ائیر کے وعدے کر کے دوسرے ملکوں کے بارڈر جمپ کروا رہے ہیں، لیکن ہماری ایف آئی اے انسانی سمگلنگ روکنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے اور پاکستانی نوجوان جنوبی افریقہ میں بے یارو مدد گار روز گار کے سلسلے میں سنہرے خواب لے کر ذلیل و خوار ہونے پر مجبور ہیں۔
سید احمد ولید بخاری کے مطابق اسے وزیرآباد کے ایک ایجنٹ نے چکنی چپڑی باتیں سنا کر بائی ائیر ساؤتھ افریقہ میں ساڑھے آٹھ لاکھ میں بھجوانے کا کہا اور مجھے لاہور ائیر پورٹ سے دبئی کے لئے بٹھا دیا گیا اور بعد میں دبئی سے موزمبیق لایا گیا اور پھر بارڈر پیدل جمپ کروا کرغیر قانونی طور پر ساؤتھ افریقہ میں انٹری کروائی جہاں پر ایک دفعہ پھر میں ذلیل وخوار ہونے کے لئے پھنس گیا۔ مجھے بھوکا پیا سا رکھ کر پاکستان سے اپنے گھر والوں سے پیسے دلوانے پر مجبور کیا جانے لگا اور مجھ پر تشدد بھی ہونے لگا لیکن ایک دن میں موقع پاکر وہاں سے فرار ہو گیا اور پیدل ہی بیگانے دیس کی سڑکوں پر چلنے لگا لیکن ایک اللہ کے بندے نے جو کہ ساؤتھ افریقن تھا اس نے مجھے گاڑی میں لفٹ دی اور مجھے ایک پاکستانی کی دکان پر ڈراپ کر دیا۔ سید احمد ولید نے مزید بتایا کہ میرے ساتھ دھوکا اور فراڈ کیا گیا ہے اور اب مجھے یہاں پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور میرے پیپرز، پاسپورٹ وغیرہ بھی انہی کے پاس ہیں۔