لندن میں پھر دہشت گردی، زیرزمین سٹیشن پر دھماکہ، 29 زخمی سروس معطل، داعش نے ذمہ داری قبول کر لی
لندن: لندن پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں آ گیا۔ گزشتہ روز مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجکر 20 منٹ پر لندن کے پرسونس سٹریٹ گرین زیرزمین ریلوے سٹیشن میں ٹرین میں دھماکہ ہو گیا جس میں 25 کے قریب لوگ زخمی ہو گئے جن میں کچھ شدید زخمی ہیں، زخمی لوگوں کو ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔
برطانیہ کی وزیراعظم ٹریسامے نے متاثرین کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ وزیراعظم نے کابینہ کا ہنگامی اجلاس بلا لیا ہے۔ لندن پولیس نے واقعہ کو باقاعدہ دہشت گردی ڈکلیئر کر دیا۔ بی بی سی کے مطابق لندن کے علاقے فلہم میں زیرِزمین ٹرین میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں اور ماہرین نے بتایا ہے کہ اگر یہ دیسی ساختہ بم صحیح طریقے سے پھٹتا تو بڑے پیمانے پر تباہی ہو سکتی تھی۔ پولیس کے مطابق یہ دھماکہ جمعہ کی صبح جنوب مغربی لندن میں پارسنز گرین کے سٹیشن پر موجود ڈسٹرکٹ لائن کی ایک ٹرین پر ہوا۔ سکاٹ لینڈ یارڈ نے کہا ہے کہ اس واقعہ کو دہشت گردی کی کارروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اسسٹنٹ کمشنر مارک روئیلی کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ ایک دیسی ساختہ بم کی وجہ سے ہوا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق دھماکے کا مقصد زیادہ لوگوں کو ہلاک کرنا تھا لیکن یہ بم صحیح طرح پھٹ نہیں سکا۔ ماہرین کے مطابق بظاہر دیسی ساختہ بم پھٹا نہیں ہے بلکہ اس میں آگ لگی ہے لیکن اگر اس میں دھماکہ ہوتا تو بڑی تعداد میں لوگ ہلاک اور زخمی ہو سکتے تھے کیونکہ اسے اسی نیت سے تیار کیا گیا تھا۔ پولیس اور طبی کارکنوں کے مطابق انہیں صبح آٹھ بج کر 20 منٹ پر پارسنز گرین سٹیشن پر طلب کیا گیا اور لندن ایمبولینس سروس کے مطابق 18 افراد کو جائے وقوعہ سے ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم ان میں سے کسی کی بھی حالت تشویشناک نہیں تھی۔ لندن میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ تاحال وہ یہ نہیں بتا سکتی کہ آگ کس وجہ سے لگی۔ عینی شاہدین نے کہا ہے کہ انہوں نے کم از کم ایک مسافر کے چہرے پر زخم دیکھے ہیں جبکہ واقعہ کے بعد لوگوں کو افراتفری کے عالم میں ٹرین سے اترتے بھی دیکھا گیا ہے۔ اس ٹرین کے ایک مسافر کرس ولڈش نے بی بی سی ریڈیو فائیو لائیو کو بتایا کہ انہوں نے ایک بالٹی دیکھی جس سے کچھ شعلے بلند ہو رہے تھے اور وہ بوگی کے پچھلی طرف دروازے کے قریب پڑی تھی۔ ایک اور مسافر لیوک کا کہنا تھا کہ 'دھماکہ زوردار تھا اور اس وقت ہوا جب ٹرین سٹیشن پر رک رہی تھی۔ جلنے کی واضح بو تھی اور لوگ باہر نکلنے کے لیے ایک دوسرے پر چڑھ رہے تھے۔ برطانیوی وزیراعظم ٹریسا مے نے امریکی صدر ٹرمپ کے بیان پر ردعمل میں کہا ہے کہ ٹرمپ کی قیاس آرائی دھماکے کی تحقیقات میں مددگار نہیں ہو گی۔ پولیس سکیورٹی سروسز حملہ آوروں کی شناخت کیلئے ہرممکن اقدامات کر رہی ہیں۔ صدر ٹرمپ لندن ٹرین حملے سے متعلق قیاس آرائی نہ کریں۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد ٹرین میں آگ بھڑک اٹھی جبکہ زخمی ہونے والے افراد کے چہرے جھلس گئے اور ان کے بال جھڑنے گئے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ واقعہ میں متعدد افراد زخمی ہوئے جس کے بعد برطانوی وزیراعظم کے دفتر نے ایک بیان جاری کیا کہ واقعہ کے بعد کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا۔ واقعہ کے بعد سٹیشن کو بند کردیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ضلعی لائن پر موجود تمام سٹیشنز اور سروس کو بھی بند کردیا گیا۔ میٹرو ڈاٹ کو ڈاٹ یوکے کی رپورٹ کے مطابق ٹرین میں موجود ایک سفید کنٹینر میں دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں مسافروں کے چہرے پر زخم آئے۔ لندن فائربریگیڈ کا کہنا تھا کہ انہیں مقامی وقت کے مطابق 8 بجکر 21 منٹ پر طلب کیا گیا تھا۔ واقعہ کے بعد پولیس اور سراغ رساں کتوں کی مدد سے متاثرہ ٹرین اور سٹیشن کے قریب سرچنگ کی گئی۔ لندن پولیس کے بیان میں کہا گیا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ دھماکے کے بعد آگ کیوں لگی تاہم اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور یہ تحقیقات میٹس کاونٹر ٹیررزم کمانڈ کا ادارہ کررہا ہے۔ بعد ازاں لندن کے میئر صادق خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ لندن پولیس نے دھماکے کو دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا۔ انہوں نے دھماکے کی پرزور مزمت کرتے ہوئے کہا کہ لندن نے متعدد مرتبہ اس بات کو ثابت کیا ہے کہ وہ دہشت گردی سے مرعوب نہیں ہوں گے۔