تارکین وطن کی خبریں
جرمنی مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے کردار ادا کرے: بیرسٹر سلطان

برلن: آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم و پی ٹی آئی کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے غیر دانشمندانہ بیان کی وجہ سے وہ نہ صرف بین الاقوامی سطح پر غیر مقبول ہوئے ہیں بلکہ امریکہ میں بھی انکی ریٹنگ میں کمی آئی ہے۔

انہوں نے کہا اس موقع پر ہماری نظریں جرمنی پر ہیں اور لگتا ہے کہ جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل عوام میںاپنی مقبولیت کی وجہ سے جرمنی کے انتخابات میں تیسری مرتبہ بھی جرمنی کی چانسلرمنتخب ہو جائیں گی۔ ٹرمپ کی امن دشمن پالیسیوں کا وہی بہتر انداز میں جرمنی اور یورپ کی طرف سے جواب دے سکتی ہیں۔ کیونکہ وہ یورپی یونین کی غیر اعلانیہ سربراہ بھی ہیں اور ہم توقع رکھتے ہیں کہ وہ دوبارہ اقتدار میں آکر کشمیر، فلسطین اور برمامیں جاری مظالم رکوانے کے لئے کردار ادا کریں گی۔

انہوں نے کہا اب جبکہ نارتھ کوریا اور دیگر مقامات پر بھی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے یہاں تک کہ وہاں ایٹمی جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔ جس طرح جرمنی نے شام کے مہاجرین کو پناہ دی اور پورے یورپ سے بھی کہا کہ وہ ان مہاجرین کو پناہ دیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انجیلا مرکل عوام دوست رہنماء ہیں۔ ہماری نیک خواہشات انکے ساتھ ہیں کہ وہ انتخابات میں کامیاب ہوں۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے یہاں جرمنی کے دارالحکومت برلن میں جرمنی کی حکمران جماعت کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی کی فائونڈیشن کونریڈ اسٹفٹنگ کے ہیڈکوراٹر میں کونریڈ کے ایگزیکٹیو سربراہ رونی ہائینی سے ایک گھنٹے کی تفصیلی ملاقات میں کیا۔

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ کونریڈ اسٹفٹنگ اگرچہ حکومت کے فنڈز سے چلتی ہے لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ انجیلا مرکل کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد کونریڈ ان سے مسئلہ کشمیرکے حل کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے کہے گی۔

دریں اثناء بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے اپنے دورہء جرمنی کے دوران جرمنی کی وزارت خارجہ میں ملاقاتوں کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں کی فائونڈیشنز میں بھی ملاقاتیں کیں۔

بعد ازاں انھوں نے جرمنی میں مقیم کشمیریوں اور پاکستانیوں کے وفد سے ملاقات کرکے انہیں جرمنی کے انتخابات میں ایسے امیدواروں کی حمایت کرنے اور ووٹ دینے کا کہا جو کہ منتخب ہو کرمسئلہ کشمیرہمارے موقف کی حمایت کریں اور استحکام پاکستان پر پر یقین رکھتے ہوں۔

بعد ازاں بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اپنے جرمنی کے دو روزہ دورے کے ا ختتام پر برلن سے واپس لندن پہنچ گئے۔ جہاں پر وہ تین روز قیام کے بعد امریکہ روانہ ہو جائیں گے۔ جہاں پر وہ 23 ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے بھارتی وزیر اعظم/ وزیر خارجہ کے خطاب کے موقع پر کشمیریوں کے ایک احتجاجی مظاہرے میں شریک ہونگے۔


واپس جائیں