تارکین وطن کی خبریں
پاکستانی اداکارہ نادیہ جمیل برطانیہ میں نسل پرستی کا شکار

لندن: پاکستانی اداکارہ نادیہ جمیل نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ انہیں اپنے برطانیہ کے دورے پر پہلی مرتبہ ایک ریسٹورنٹ میں نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا، جب انتظامیہ نے ان اور ان کے والد کو کھانا مہیا کرنے کی بجائے وہاں سے جانے کو کہہ دیا۔

اداکارہ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا کہ پہلی مرتبہ برطانیہ میں نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا، مین مارکیٹ اسکوائر کے علاقے میں واقع اطالوی ریسٹورنٹ میں وہاں کی انتظامیہ نے مجھے اور میرے ابا کو کھانا پیش کرنے سے انکار کیا اور ہمیں چلے جانے کو کہا، وجہ ابا جی کی داڑھی تھی۔

تاہم ڈان پاسکل نامی اس اطالوی ریسٹورنٹ نے اپنی وضاحت کے لیے ٹویٹر پر ایک بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے نادیہ جمیل کی جانب سے لگائے الزام کو جھوٹا قرار دیا۔

بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ٹوئٹر پر کہی ہر بات پر یقین نہ کریں، نادیہ ہمارے اسٹاف پر چلاتی رہی جس کے بعد ہم نے انہیں وہاں سے جانے کو کہا، اس دن ہمارے پاس کم لوگ تھے جس کے باعث انہیں خود اپنا آرڈر دینے کو کہا گیا تھا، ہم 40 سالوں سے بغیر کسی نسل، رنگ، مذہب کو دیکھتے ہوئے لوگوں کے لیے کھانا پیش کررہے ہیں، ہم نے نادیہ کو کھانا کھانے سے منع نہیں کیا تھا، اب یہ کیس پولیس تک پہنچا دیا گیا ہے۔


واپس جائیں