فراڈ کاالزام، امریکی رکن پارلیمنٹ کے پاکستانی ملازم نوکری سے فارغ
واشنگٹن: امریکی ایوان میں ڈیموکریٹس کی نمائندہ ڈیبی واسرمین اسکلٹز نے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے پاکستانی نژاد اسٹاف ممبر کو ریاست ورجینیا کے ایک ایئرپورٹ پر گرفتاری کے بعد نوکری سے برطرف کردیا۔
واسرمین اسکلٹز کے ترجمان ڈیوڈ ڈمرون نے بتایا کہ فلوریڈا کی قانون ساز نے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ میں کام کرنے والے عمران اعوان نامی شخص کو اس وقت برطرف کیا جب وہ ورجینیا ایئر پورٹ سے لاہور جانے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار ہوئے تھے۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق عمران اعوان کے وکیل کرس گاوین نے بھی اپنے موکل کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عمران اعوان کو ڈلز ایئر پورٹ سے گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے موکل نے معمول کے مطابق اپنے گھروالوں سے ملاقات کے لیے اپنے سفر کے بارے میں آگاہ کردیا تھا اور انہیں اس کی اجازت بھی مل گئی تھی۔ ورجینیا کے علاقے لورٹن میں مقیم 37 سالہ عمران اعوان کو منگل (25 جولائی) کو ڈسٹرکٹ کولمبیا کی مقامی عدالت میں بینک فراڈ کے الزام میں پیش کیا گیا تھا۔ عدالت کے مطابق عمران نے اپنے بے قصور ہونے کی درخواست دی تھی جس کے بعد انہیں ایک کڑی نگرانی کے پروگرام کے تحت رہا کر دیا گیا، جس کے مطابق انہیں اپنے گھر سے 50 میل سے زیادہ دور سفر کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ امریکی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے اسپیشل ایجنٹ برینڈن میری مین کی جانب سے مقامی عدالت میں ایک حلف نامی جمع کرایا گیا جس میں امکانات ظاہر کیے گئے کہ عمران اعوان اور ان کی اہلیہ حنا علوی نے کانگریس کے فیڈرل کریڈٹ یونین کی اسکیم میں غلط بیانی کرتے ہوئے قرضہ حاصل کرنے کا فراڈ کیا۔ مجرمانہ شکایت کے حوالے سے جمع کرائے گئے اس حلف نامے میں کہا گیا کہ مذکورہ غلط بیانی ایک تحریری ضمانت کے گرد گھومتی ہے جس کے مطابق جس گھر کے لیے قرضہ لیا گیا وہ ایک بنیادی رہائش گاہ ہے۔ ایف بی آئی کے نمائندہ خصوصی میری مین نے بتایا کہ کریڈٹ یونین عام طور پر ایسے گھروں کو گروی رکھوا کر قرضے فراہم نہیں کرتا جو گھر رہائش کے بجائے کرائے پر استعمال ہو رہے ہوں۔ نگرانی اور عمران اعوان کے گھر کے ارد گرد کے گھر والوں سے تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ پاکستانی جوڑے نے قرض لینے کے لیے جس جائیداد کی ضمانت دی تھی وہ وہاں پر رہائش پذیر ہی نہیں تھے۔ خصوصی ایجنٹ نے اپنے حلف نامے کے ساتھ بینک ریکارڈ بھی منسلک کیے جن کے مطابق پاکستان کے دو بینک اکاؤنٹس میں کل 2 لاکھ 83 ہزار امریکی ڈالر کی رقوم بھیجی گئیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ رواں برس مارچ میں تحقیقاتی ایجنسی کے اہلکاروں نے ڈلز ایئرپورٹ تک عمران اعوان کی اہلیہ کا پیچھا کیا لیکن انہیں اپنے سفر کی اجازت دے دی گئی۔ حنا علوی کو ستمبر 2017 میں پاکستان سے امریکا واپس آنا ہے جبکہ تحقیقاتی ادارے کے اہلکار کا خیال ہے کہ حنا علوی واپس امریکا آنے کا ارادہ نہیں رکھتیں۔ ایف بی آئی اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ عمران اعوان نے امریکا سے قطر کی ٹکٹ خریدی جس کے بعد وہ وہاں سے لاہور کے لیے روانہ ہونا تھا جبکہ انہوں نے لاہور سے امریکا واپس آنے کے لیے جنوری 2018 کا ٹکٹ بک کرایا تھا۔ تاہم عمران اعوان کے وکیل نے کہا کہ ایک معمولی ریئل اسٹیٹ معاملے کو ایک بینک فراڈ کی شکل دی جارہی ہے جسے مسلمان مخالف تعصب کے ذریعے طول دیا جارہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے موکل کو جلد رہائی ملے گی اور وہ جلد اپنی اہلیہ کے ساتھ ہوں گے۔ کرس گاوین نے بتایا کہ اس معاملے میں ابتدائی سماعت آئندہ ماہ 21 اگست کو کی جائے گی۔