تارکین وطن کی خبریں
برطانیہ میں پاکستان سے منشیات اسمگلنگ کے جرم میں آٹھ افراد کو جیل

لندن: پاکستان سے تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ پاؤنڈز مالیت کی منشیات اسمگل کرنے والے برمنگھم کے گینگ کے کارندوں کو 130 سال سے زائد جیل کی سزا سنادی گئی۔

برطانوی اخبار برمنگھم میل کی رپورٹ کے مطابق مجرمان لاہور سے آنے والی صنعتی مشینری کے اندر ہیروئن چھپا کر برطانیہ اسمگل کرتے تھے، جنہیں نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کی تحقیقات کے بعد گرفتار کیا گیا۔

تمام افراد کو ہیروئن درآمد کرنے کی سازش کرنے پر برمنگھم کراؤن کورٹ کی جانب سے کُل 138 سال اور چھ ماہ جیل کی سزا سنائی گئی۔ گینگ کے رِنگ لیڈرز 38 سالہ عمران زیب خان، 36 سالہ محمد علی اور 32 سالہ ساجد حسین کو 22، 22 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

عدالت میں سماعت کے دوران یہ حقیقت سامنے آئی کہ مجرمان نے براستہ کراچی، لاہور سے گزشتہ سال فروری اور جولائی میں لندن گیٹ وے پورٹ کے لیے منشیات کی دو کنٹینر شِپ منٹس کا انتظام کیا۔

رپورٹ کے مطابق کراؤن پراسیکیوشن سروس کے انٹرنیشنل جسٹس اینڈ آرگنائزڈ کرائم ڈویژن کے جان ڈیوس کا کہنا تھا کہ سزا پانے والے افراد انسانی جانوں کی اہمیت کو نظر انداز کیے بغیر، ہیروئن کی بڑی مقدار برطانیہ میں درآمد کی جانے کی منظم سازش کا حصہ تھے۔

انہوں نے کہا کہ کیس کے جائزے سے واضح ہوتا ہے کہ اس کام کے لیے کس طرغ بوگس کمپنیوں، جعلی دستاویزات، غیر رجسٹرڈ موبائل فونز اور پاکستان کے دوروں کا استعمال کیا گیا۔

جان ڈیوس کا کہنا تھا کہ عدالت میں محتاط طریقے سے پیش کیے گئے ثبوتوں کے ذریعے پراسیکیوشن نے اس میں ملوث تمام مجرمان میں سے ہر ایک کے کردار کو واضح کیا، جس کے بعد عدالت نے انہیں سزا سنائی۔


واپس جائیں