تارکین وطن کی خبریں
برطانوی وزیراعظم تھریسامے کیخلاف احتجاجی مظاہرے، استعفیٰ کا مطالبہ

لندن: برطانوی وزیراعظم کا قبل از وقت انتخابات کا فیصلہ گلے میں ہڈی بن گیا، وزیراعظم تھریسامے کیخلاف مظاہروں کا سلسلہ پھوٹ پڑا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی انتخابات کے نتائج کے مطابق کنزرویٹو پارٹی اپنے مضبوط قلعے میں ہارگئی ہے، کینزنگٹن کا حلقہ لیبر پارٹی نے محض 20 ووٹوں سے جیت لیا۔ اس طرح لیبر پارٹی کی کل نشستوںکی تعداد 262 ہوگئی جبکہ کنزرویٹوپارٹی 318 تک محدود ہے۔ یورپی یونین سے برطانیہ کے نکلنے کے معاملے پربرطانوی وزیر اعظم نے قبل از وقت انتخابات کاجوا کھیلا تھا وہ ان کے گلے پڑگیا۔

جمعرات کے انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی نے گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں اپنی12 نشستیں کھودیں جبکہ لیبرپارٹی کو فائدہ ہوا اور اسے 30 نشستیں زیادہ ملیں۔ خبر ایجنسی کے مطابق اسی وجہ سے وکٹری ڈے پران کے خلاف احتجاج کیا گیا، استعفے کے مطالبے کیے گئے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیراعظم تھریسامے پر مستعفی ہونے کیلیے دباؤ بڑھتا جارہاہے اور اب ملک بھرمیں ان کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ بھی پھوٹ پڑا ہے۔ ان پر اپنی ہی پارٹی سے مستعفی ہونے کا دباؤ بڑھتا جارہاہے۔

گزشتہ روز ان کی رہائش گاہ کے سامنے مظاہرہ کیاگیا، سیکڑوں مظاہرین نے پلے کارڈاٹھا رکھے تھے اورمیگا فون کے ذریعے نعرے بازی کی گئی۔ مظاہرین کا کہناہے کہ انتخابات کے بعد اب وزیراعظم کو اپنے عہدے سے مستعفی ہوجانا چاہیے، دوسری طرف میڈیا میں یہ قیاس آرائیاں بھی جاری ہیںکہ چند ماہ میں حالات اس کروٹ بیٹھیں گے کہ تھریسامے کو مستعفی ہونا ہی پڑے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر لندن کے سابق میئربورس جانسن برطانیہ کے اگلے وزیراعظم ہوںگے۔ لیبر پارٹی انتخابات میں اپنی اچھی کارکردگی پر جشن منارہی ہے، جیرمی کوربن نے کہا ہے کہ وہ اتحادیوںکے ساتھ مل کر حکومت تشکیل دینے کیلیے تیارہیں۔ برطانوی سیاسی تاریخ کے بدترین انتخابات نے کئی سوالیہ نشان چھوڑ دیے ہیں اور یورپی یونین سے برطانوی انخلا پر بھی سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق یورپی یونین نے نتائج پر تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے نتائج کوحیران کن قرار دیا ہے۔ انتخابات میں دوسرا بڑا دھچکا اسکاٹ لینڈکی حکمراں جماعت اسکاٹش نیشنل پارٹی کو لگا ہے جو اپنی21نشستیں ہارگئی ہے۔

دوسری جانب یورپی یونین نے خبردارکیاہے کہ معلق پارلیمنٹ سے برطانیہ کے بریگزٹ کیلیے ہونیوالے مذاکرات تعطل کا شکار ہوسکتے ہیں۔ تاہم یورپین کمیشن کے صدر جین کلاڈ نے امید ظاہرکی ہے کہ نتائج کا بریگزٹ مذاکرات پر زیادہ اثر نہیں ہوگا۔ برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کیلیے مذاکرات 19 جون کو ہوں گے۔


واپس جائیں