تارکین وطن کی خبریں
جرمنی پناہ کی ایک لاکھ درخواستوں کا دوبارہ جائزہ لے گا

جرمن(چیف اکرام الدین سے) جرمن وزرات داخلہ کے مطابق ایک لاکھ کے قریب مہاجرین کی پناہ کی درخواستوں کی دوبارہ جانچ کی جائے گی ازسرنو جانچ کے عمل میں اٹھارہ سے چالیس سال کی عمر کے مرد تارکین وطن کی درخواستیں بالخصوص شامل کیا جائیں گی مقدمات کی ازسرنو پڑتال کا آغاز موسم گرما نہ میں شروع کر دیا جائے گا جرمن انٹرنیشنل میڈیا کی رپورٹ کے مطابق وفاقی جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر نے بدھ کے روز صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پناہ کی دو ہزار درخواستوں کی دوبارہ پڑتال میں فوج کے لیفٹینینٹ فرانکو اے جیسا کوئی دوسرا کیس نہیں ملا اور یہ کہ لیفٹیننٹ فرانکو اے کا کیس اس تناظر میں اپنی نوعیت کا واحد کیس تھا ڈے میزیئر کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ نے جرمنی کے وفاقی دفتر برائے مہاجرت اور ترک وطن (بی اے ایم ایف) کو اسی ہزار سے ایک لاکھ پناہ کے کیسوں کی دوبارہ جانچ کا حکم دیا ہے مقدمات کی از سرنو پڑتال کا آغاز موسم گرما میں شروع کر دیا جائے گا جرمن میں دہشت گردانہ حملے کا منصوبہ بنانے والے ملکی فوج کے لیفٹینینٹ فرانکو اے نے سن 2015 میں اپنے ہی ملک کے دو مختلف شہریوں میں بطور شامی مہاجر سیاسی پناہ کی درخواستیں دائر کیں جن میں سے ایک کو منظور کر لیا گیا تھا پناہ کی درخواست کی منظوری کے بعد فرانکو اے کو مہاجرین کے ایک رہائشی مرکز میں جگہ بھی فراہم کر دی گئی تھی اور اس حکومت کی طرف سے تارکین وطن کیلئے مختص سرکاری مالی امداد بھی ملنے لگی تھی بعد ازاں ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ فرانکو اے اور اس کے دو ساتھی جرمنی میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کرکے ان کا الزام مہاجرین پر عائد کرنا چاہتے تھے جرمنی کی وفاقی حکومت، سکیورٹی ادارے اور مہاجرین کے امور سے متعلق دیگر ادارے جرمن فوجی کا کیس منظر عام پر آنے کے بعد سے اس کی تحقیقات کرنے اور ملک میں رائج پناہ کے طریقہ کار کو مزید سخت کرنے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں


واپس جائیں